ہندوستان کے قدیم باشندے
ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے جس میں کہیں اونچے پہاڑ گہری ندیاں زرخیز زمین لہلہاتے کھیت برف سے ڈھکی چٹانیں خوبصورت وادیاں خوشنما اور خوشبو سے مہکتے باغات، خوبصورت مناظر کہیں گھنے جنگل ہیں اور کہیں ریگستان کہیں زمین سونا اگلتی ہے اور کہیں دیگر معدنیات نکلتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں میں ہے۔ اس کی تاریخ گذشتہ پانچ ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں صوفیا سادھو سنت بھی آتے رہے ہیں۔ یہاں کی تہذیب مشتر کہ تہذیب ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگ مختلف زبانیں بولنے والے مختلف رسوم و رواج غرض اس کی رنگا رنگی ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند ہے۔ یہاں وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کا حسن ملتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لوگ یہاں بستے ہیں اور باہر سے آتے رہے ہیں۔ ذیل میں ہندوستان کے چند قدیم باشندوں کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔
(1) نگریٹو(Negretos) یہ آفریقہ کے کچھ قبائل تھے جو ترک وطن کر کے زرخیر زمینوں کی تلاش میں ہندوستان آئے تھے۔
م ان آفریقی قبائل کے کچھ نشانات جزائر انڈمان میں پائے جاتے ہیں ۔
(2) پروٹو آسٹر لوائیڈ (Proto-Australoid): یہ فلسطین سے آئے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے علاوہ سیلون ، برما، ملایا، اور آسٹریلیا کا بھی رخ کیا اور وہاں آباد ہوئے۔
(3) آسٹرک (Ausrtic): آسٹرک بحرہ روم کے علاقے سے آئے تھے اور انہوں نے عراق کے راستے سے یہ سفر طے کیا تھا۔ یہ شمالی ہندوستان کے بعض حصوں میں بس گئے۔ انہی میں سے کچھ لوگ ہند چین اور انڈو نیشیا چلے گئے تھے۔
(4) دراوری (Dravidians) : یہ لوگ بحرہ روم اور ایشیائے کو چک کے باشندے تھے۔ وہاں سے نکل کر یہ لوگ کافی عرصہ عراق میں رہے پھر بلوچستان ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچے۔ تقریباً ساڑھے تین ہزار قبل مسیح میں انہوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنایا۔ یہ لوگ پنجاب اور سندھ کے علاقہ ہڑپا اور موہنجو دارو میں آباد ہوئے۔ ان کے دو چار گروہ جو کنڑی، تلگو، تامل اور ملیالم زبانیں بولتے ہیں، تہذیبی و تمدنی اعتبار سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ ان کا اثر قریب قریب سارے ہی جنوبی ہند پر پایا جاتا ہے۔ دراوڑی زبانیں بولنے والوں کی تعداد خاصی بڑی ہے۔ شکاگو یونیورسٹی میں ان کا شعبہ قائم ہے۔ وسکانسن اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اور کچھ کشتی اسکول بھی ہیں جہاں کوئی نہ کوئی دراوڑی زبان پڑھائی جاتی ہے کیوں کہ اس حقیقت کو اب دوسرے ممالک کے لوگ جاننے لگے ہیں کہ ان کے متعلق واقف ہوئے بغیر ہندوستان کی پورے طور پر آگہی نہیں ہو سکتی۔
ہندوستان کی تہذیب و تمدن کی بنیاد دراوڑیوں ہی نے رکھی۔ اپنے عہد میں دراوڑی تہذیب دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہڑپا اور موہنجو دارو ہیں۔ جس تہذیب نے ہندوستان میں ہڑپا اور موہنجو دار کو تخلیق کیا وہ ہندوستان سے عراق ، اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے دریائے سندھ کی وادی میں کئی شہری ریاستیں بنائی تھیں ۔ وادی سندھ کے آس پاس کے علاقوں میں صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان میں اس تہذیب کے نمونے موجود ہیں۔ یہ تہذیب مشرقی پنجاب، مغربی یوپی اور راجپوتانے تک پھیلی ہوئی تھی۔
دراوڑی تہذیب خاصی قدیم تھی۔ دراوڑیوں نے زراعت کو ترقی دی ، آب رسانی کے لیے دریاؤں پر پشتے باندھے تھے اور فصیلوں سے گھرے ہوئے شہر تعمیر کیے تھے۔ ان کے یہاں صنعت وحرفت بہت ترقی کر چکی تھی ۔ سوتی اور اونی کپڑوں کی بنائی اور رنگائی، سونے چاندی کے جڑاؤ زیور بنانا ان کی خاص صنعتیں تھیں۔ مغربی اور مشرقی ایشیاء کے ملکوں سے بحری تجارت کرتے تھے۔ ان کا اپنا الگ رسم الخط ، ہند سے اور تقویم تھی۔ آریا جب ہندوستان آئے تو انہوں نے دراوڑی تہذیب سے استفادہ کیا۔ ہندوستان میں آریاؤں کے پہلے گروہ کی آمد پر ان کا مقابلہ دراوڑیوں سے ہوا۔ آریاؤں نے دراوڑیوں کو شکست دی، انھیں جنوبی ہندوستان کی طرف دھکیل دیا اور خود شمالی ہندوستان کے اکثر حصوں پر قابض ہو گئے ۔ آریاؤں نے دراوڑی تہذیب کے بہت سے عناصر قبول کیے جن میں دیو مالا کے تصورات ، کھانے پینے کی چیزوں میں پان سپاری اور لباس میں دھوتی ساری وغیرہ شامل ہیں ۔ دراوڑیوں نے بھی آریائی اثرات قبول کیے۔
(5) آریا: آریا قوم 1500 قبل مسیح میں اپنے وطن وسط ایشیا سے روانہ ہوئے ، ایران، افغانستان میں کچھ عرصہ شہر کر ہندوستان آئے اور پھر یہیں کے ہور ہے وہ مختلف جتھوں کی شکل میں ہندوستان وارد ہوئے ۔ ہندوستان آمد پر ان کا مقابلہ مقامی باشندوں دراوڑیوں سے ہوا۔ آریاؤں نے انھیں جنوب کی طرف دھکیل دیا اور خود شمالی ہندوستان پر قابض ہو گئے ۔
تلاش معاش اور فراہمی روزگار کے مقصد سے آریا ہندوستان کے زرخیز علاقوں میں وارد ہوئے اور یہاں زراعتی زندگی اختیار کی۔ ہندوستان میں داخلے کے وقت انھیں مقامی باشندوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، کبھی تو معرکہ آرائی ، اور کشاکش سے بھی گزرنا پڑا۔ انھیں دراوڑیوں پر جسمانی برتری حاصل تھی، جنگی صلاحیتوں میں بھی آگے تھے۔ آریاؤں کو ہمیشہ فتح ہوتی رہی ۔ آریا اپنے ساتھ اپنی زبان ، اپنی تہذیب ، اپنے عقائد لائے لیکن یہاں کی دراوڑی تہذیب کے بہت سے عناصر قبول کیے اور بہت کچھ انہیں دیا بھی ہے۔
(6) منگول نسل کے لوگ بھی مختصر عرصہ کے لیے ہندوستان آئے ۔ ان کی یادگار آسام اور نیپال کی پہاڑی بولیاں ہیں۔ یہ لوگ آریاؤں کے بعد آئے اور ہمالیہ کے دامن میں بس گئے ۔ یونانی لوگ ہندوستان آئے۔ یونانیوں کے بعد شاک اور ہن آتے رہے۔ انہوں نے ہندوستانی تہذیب پر بہت ہی معمولی اثر چھوڑا کیوں کہ ان کا اختلاط وقتی تھا۔
(7) شا کا اور کشان وسط ایشیا کے خانہ بدوش قبیلے تھے ان کے بعد ہون (Hun) گروہ بھی ہندوستان آیا۔
(8) عرب تاج قبل اسلام جنوبی ہند کراس گئے۔ ایرانی بھی عرب تاجروں کے ساتھ شریک تھے۔ 712ء میں محمد بن قاسم کے ساتھ مسلمان یہاں آئے اور یہ سلسلہ سلطنت مغلیہ کے سولویں صدی عیسی میں استحکام تک جاری رہا۔ پرتگیزی، ڈچ اور بعد میں دیگر یوروپی اقوام کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں