خواجہ سید محمد حسینی بنده نواز گیسو دراز
خواجہ سید محمد حسینی بنده نواز گیسو دراز
825-720ھ یا 721ھ مطابق 1422ء -1321ء
بندہ نواز گیسودراز کی ولادت دہلی میں ہوئی ۔ آپ کا اسم گرامی سیدمحمد اور کنیت ابوالفتح تھی ۔ اور القاب صدرالدین اور صادق ۔ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی بارگاہ سے جو خواجہ بندہ نواز کے شیخ تھے۔ گیسودراز لقب عطا ہوا تھا۔ خواجہ بندہ نو از سادات حسینی سے تھے۔ ان کے جد اعلیٰ ابوالحسن جنیدی ہرات سے دہلی چلے آئے تھے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کے والد سید یوسف حسینی تھے جو شاہ را جو قتال کے نام سے مشہور تھے۔ جب آٹھویں صدی ہجری کے آغاز میں سلطان محد تعلق نے دیوگیری کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور اسے دولت آباد کے نام سے آباد کیا تو دہلی کے علماء عمائدین اور مشائخین کو بھی وہاں منتقل ہونے کا حکم دیا۔ شاہ راجو اسی جماعت کے ہمراہ 17 محرم 719 ھ کو دولت آباد تشریف لے گئے۔ اس وقت خواجہ بندہ نواز کی عمر چارسال تھی اور وہ اپنے والدین کے ساتھ دکن پہنچے تھے۔ دولت آباد کے قیام کے زمانے میں سیدمحمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز نے اپنے والد اور ان کی وفات کے بعد نانا سے تعلیم وتربیت حاصل کی تھی ۔ ابتدائی تعلیم خلد آباد میں ہوئی اور شیخ با بونامی ایک بزرگ نے انہیں اپنے مکتب میں پڑھایا تھا اور حدیث وفقہ کے ابتدائی درس دیے تھے۔ خواجہ بندہ نواز نے چھ سال کی عمر سے بھی نماز قضا نہیں کی اور روزے کے پابند ہو گئے تھے۔ سات برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا اور سولہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تکمیل کر لی ۔ طلب صادق ریاضت فطری مناسبت اور نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی خاص توجہ کے باعث بہت جلد سلوک کی منزلیں طے کیں۔ شیخ چراغ دہلوی کی اجازت سے آپ علوم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔ چراغ دہلوی نے انھیں خلافت سے سرفراز کیا۔ بندہ نواز نے بندگان خدا کی رہنمائی و ہدایت میں چوالیس برس گزار دیے اور تشنگان علم و معرفت کی پیاس بجھائی ۔ وہ چاشت کے بعد یا نماز ظہر ادا کرنے کے بعد تفسیر حدیث اور سلوک کے موضوع پر درس دیا کرتے تھے۔
سید محمدحسینی بندہ نواز کی عمر جب چالیس سال سے تجاوز کرگئی تو والدہ کے اصرار پر آپ نے بی بی رضا خاتون سے نکاح کیا۔ ان کے بطن سے دو صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔ آپ کے فرزند سید حسین عرف سید محمد اکبر حسینی عالم متبحر اور برگزیده سالک تھے دوسرے صاحبزادے سید یوسف عرف سید محمد اصغر حسینی بھی عالم و فاضل اور اپنے والد کے خلیفہ تھے۔ وصیت کے مطابق والدہ کے انتقال کے بعد وہ سجادہ نشین ہوئے۔
سید محمد حسینی اجمیر ناگور احمد آباد کاٹھیواڑ گرناتھ ، پہاڑ ٹھٹہ ' حیدر آباد سندھ بلوچستان افغانستان لاہور پاک پٹن ملتان کشمیر ہردوار اور لکھنو سے ہوتے ہوئے بالاخر دولت آباد پہنچے تھے۔ اس وقت ان کی عمرنوے سال سے متجاوز ہو چکی تھی۔ سیدمحمد حسینی نے دولت آباد پہنچ کر اپنے والد شاہ راجو قتال کے مزار کی زیارت کی ۔ جب وہ گلبرگہ تشریف لائے تو ان کی عمر نوے سال سے زیادہ تھی۔ گلبرگہ کی جامع مسجد کے قریب اپنے کئی مریدوں کے ساتھ ایک خانقاہ میں فروکش ہوے اور رشد و ہدایت تعلیم وتلقین میں مصروف رہے۔ وہ ایک عالم تجربی نہیں ایک خدارسیدہ بزرگ اور صاحب کشف و کرامات صوفی تھے۔ وہ اپنے مخاطب کے مرتبے اور حیثیت کے مطابق اس کو مناسب ہدایت دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے مریدوں اور معتقدوں کو بندگان خدا کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے سرکاری عہدیداروں بادشاہ اور امراء وغیر ہ اگر ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہیں عدل و انصاف کی ہدایت فرماتے اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر زور دیتے تھے۔ بندہ نواز گیسو دراز سماع کو پسند کرتے ۔ وہ کلام اللہ کی بہت تلاوت کرتے ۔ انہوں نے سہلا میں بھی طبع آزمائی کی جو محفل سماع میں گائے جاتے تھے۔ بندہ نواز اس تصور کے حامل تھے کہ سماع سے گداز قلب رقت اور سپردگی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ ان کے چکی نامے اور غزل بھی متعارف کیے گئے ہیں۔ خواجہ بندہ نواز نے اردو نثر میں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں