منٹو کی افسانہ نگاری

افسانوی ادب کی دنیا میں سعادت حسن منٹو کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اردو کا یہ افسانہ نگار آج دنیا کے بیشتر افسانوی ادب میں متعارف ہو چکا ہے۔ ان کے افسانے ہندوستان کی مختلف علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کی زبانوں میں بھی ترجمے ہو چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے چند بڑے افسانہ نگاروں میں منٹو کا بھی شمار ہوتا ہے۔ کوئی بھی فن کار ، چاہے وہ کسی بھی میدان کا کیوں نہ ہو، تب تک بڑا نہیں بن سکتا ، جب تک وہ اپنے معاصرین سے الگ ہٹ کر کچھ نیا نہیں پیش کرتا ۔ منٹو بہت حساس ذہن کے مالک تھے اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے۔ منٹو نے جب افسانے کی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت پریم چند، کرشن چندر، را جندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی افسانے میں بہت کچھ کر چکے تھے اور اپنے اپنے میدان میں بہت اچھے اچھے افسانے پیش کر چکے تھے۔ اس لیے منٹو نے افسانہ نگاری کے میدان میں ایک الگ راہ نکالی۔ منٹونہ تو کسی تحریک سے وابستہ تھے اور نہ ہی وہ کسی رجحان کے تحت افسانے تخلیق کرتے تھے۔ منٹو اپنے موضوعات کے موجد خود ہی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اس میدان میں ان کا ثانی دوسرا کوئی نہیں ہے۔ منٹو نے اپنا پہلا افسانہ تماشا کے عنوان سے آدم کے فرضی نام سے لکھا، جو باری علیگ کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار خلق میں 5 جنوری 1935 کو شائع ہوا ۔ بعد میں منٹو نے اسے اپنے پہلے افسانوی مجموعے " آتش پارے (1936) میں شامل کیا۔ منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں میں انقلابی عنصر غالب ہے۔ وہ آتش پارے کے مقدمے میں خود لکھتے ہیں کہ یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں۔ ان کو شعلوں میں تبدیل کرنا پڑھنے والوں کا کام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ منٹو کی شخصیت ہمیشہ متنازعہ رہی ہے۔ خود منٹو اپنے متنازعہ کارناموں کی وجہ سے کئی مرتبہ جیل گئے اور ان پر مقدمے بھی درج ہوئے ۔ منٹو کی طرح منٹو کی ادبی تحریریں بھی تنازعے کا شکار ہیں اور ان کے متعدد افسانوں پر مقدمے بھی چلے۔ ان پر کچھ لوگوں نے فحش نگاری کا الزام لگایا تو کچھ لوگوں نے انہیں محض باغیانہ خیالات کا افسانہ نگار قرار دیا۔ منو کا مان تھا کہ و پخش نہیں لکھتے تھے اور نہ ہی باغیانہ خیالات کے افسانہ نگار تھے بلکہ وہ اپنے افسانوں کے ذریعے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی بچی تصویر سماج کے سامنے پیش کرتے تھے۔ منٹو ایک حقیقت پسندفن کار تھے ۔ وہ جو کچھ بھی سماج میں دیکھتے تھے اسے اپنی فنکاری سے افسانوں میں ڈھال کر سماج کو واپس کر دیتے تھے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ منٹو نے سماج کی ایک ایسی حقیقت کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے، جس کو معاشرے کے ایک خاص پر دے میں چھپایا جارہا تھا۔ اپنے ان افسانوں کے بارے میں منٹو نے خود لکھا ہے کہ:


زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ نا قابل برداشت ہے۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں، جس کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، وہ دراصل موجودہ نظام کا نقص ہے ۔

 ( بحوالہ پریم گوپال متل ( مرتب)، سعادت حسن منٹو،ص 14)

اکثر ناقدین نے منٹو کو طوائف کے موضوع تک ہی محدود رکھا ہے، جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ان کے افسانوں میں موضوعات کا تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کے متنوع موضوعات میں جنسیات کے علاوہ سیاسیات، مارکسیت ، اشتراکیت، انقلابیت، فرقہ واریت، فسادات تقسیم ہند و غیره شامل ہے۔ اس کی مثال کے لیے کالی شلوار ٹھنڈا گوشت ، مد بھائی ، ٹو بہ ٹیک سنگ، نیا قانون، یزید ، تماشا، طاقت کا امتحان، دیوانہ شاعر ، خونی تھوک جی آیا صاحب جیسے کئی مشہور افسانے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں کسی ایک خاص طبقے کی عکاسی نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی ایک زادے یا نقطہ نظر سے افسانوں کی تخلیق کی ہے، بلکہ ان کے افسانوں میں اعلیٰ طبقے کے ساتھ ساتھ متوسط اور نچلے طبقے کے انسانوں کی سوچ ، ان کی نفسیات، طرز فکر، رہن سہن ، سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کی بھی عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ منٹو نے طوائف کے ساتھ ساتھ ، بھکاری، مزدور، کسان ، ڈاکو، مولوی، پنڈت، درویش، بچے، جوان، بوڑھے غرض کہ ہر قسم کے کرداروں کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔

منٹو کے زیادہ تر افسانے فنی نقطہ نظر سے بہت کامیاب ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں پلاٹ، کردار نگاری ، تکنیک، زمان و مکاں، نقطہ نظر اور زبان و بیان وغیرہ پر بہت زور دیا ہے۔ منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں کے پلاٹ کافی کمزور ہیں لیکن بعد کے افسانوں کے پلاٹ اتنے منظم ہیں کہ اس میں سے ایک بھی واقعے کو اوپر نیچے نہیں کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ منٹو اپنی کہانیوں میں خود ایک کردار کے طور پر موجود ہوتے ہیں اور واحد متکلم کے طور پر کہانی کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے کرداروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے بیشتر کردار احتجاجی رویہ اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں، جو کہانی میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ تکنیک کے طور پر منٹو بہت محتاط نظر آتے ہیں ۔ انہیں اپنی بات کہنے کا ہنر اچھی طرح آتا ہے۔ کون سی بات کب اور کس طرح کہنی ہے؟ اس کا بھی علم انہیں بخوبی ہوتا ہے۔ منٹو اپنے افسانوں میں زماں و مکاں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا کوئی مخصوص دائرہ نہیں ہے لیکن انہوں نے اس بات کا خیال ہمیشہ رکھا ہے کہ وہ افسانے کے موضوع اور مواد کے دائرے سے باہر نہیں جاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زیادہ تر افسانے آفاقیت کے حامل ہوتے ہیں۔

منٹو کے افسانوں کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ ان کے افسانوں کا اختتامیہ بہت ہی پر اثر ہوتا ہے۔ مثلاً نیا قانون اور کھول دو۔ اس کے علاوہ منٹو کے افسانوں کا عنوان ہی ان کی کہانیوں کا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دس روپے، کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت ، ہتک جیسے کئی افسانے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ منٹو کے افسانوں میں زبان و بیان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ انہیں زبان پر غیر معمولی قدرت ہے۔ منٹو کو لفظوں کا جادو گر کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے اپنے اکثر افسانوں میں مکالموں سے بہت زیادہ کام لیا ہے۔ وہ مکالموں میں جملوں کو اس طرح فٹ کرتے ہیں کہ ایک بھی لفظ غیر ضروری یا زائد نہیں معلوم ہوتا ۔

المختصر یہ کہ سعادت حسن منٹو ایک حقیقت پسند اور ہنر مند افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے محض 43 سال کی عمر پائی اور اتنی کم عمر میں اردو ادب کو بہت سے مشہور افسانوں سے مالا مال کیا ہے۔ ان کے مشہور افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، نیا قانون ، کھول دو، ہتک ، کالی شلوار، پھند نے ، مد بھائی، ٹھنڈا گوشت ، لذت سنگ ننگی آوزیں ، جی آیا صاحب وغیرہ شامل ہیں۔ ان کہانیوں کے مطالعے سے زندگی کی ایسی سچائیاں کھل کر ہمارے سامنے آتی ہیں، جو قاری کو سوچنے اور سمجھنے کے انداز کو بدل دیتی ہیں اور قاری سماج کے متعلق نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام