ادب اور سماج کا رشتہ

 ادب اور سماج کا رشتہ:-


ادب اور سماج کا رشتہ بہت قدیم ہے۔ جب انسان جنگوں اور غاروں میں رہا کرتا تھا اور اس کے پاس زبان نہیں تھی اس وقت بھی اس کے ذہن میں شعری وادبی خیالات یقینا آتے ہوں گے کیونکہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار انسان کی بنیادی جبلت ہے اور اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے۔ اس لیے اس وقت جب انسان فطرت کے بہت قریب تھا اور فطرت میں انسان کو متاثر کرنے کی لامحدود صلاحیت ہے، اس وقت انسان کے ذہن میں شعری و ادبی خیالات و تجربات ضرور آتے ہوں گے۔ لیکن ادب کے لیے زبان ضروری ہے ۔ ادب لفظ و معنی کے ملنے سے ہی وجود میں آتا ہے۔ اس لیے ادب کا آغاز زبان کے بننے کے بعد ہی ہوا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں ادب کی ابتدا شاعری ہی سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاعری بحرو وزن کی وجہ سے آسانی سے یاد ہو جاتی ہے لیکن نثر  یاد کرنا نہایت مشکل ہے۔ اس لیے شاعری کا آغاز اس وقت ہو گیا تھا جب زبان محض بولنے تک محدود تھی ، تحریری زبان کی ایجاد بعد میں عمل میں آئی۔

آہستہ آہستہ زبان اور سماج دونوں ترقی کی منزلیں طے کرتے رہے، زبان کو تحریری شکل حاصل ہوئی اور سماج بھی زیادہ منظم ہوتا گیا، اس میں زیادہ باضا بتگی آئی ساتھ ساتھ پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نئی صورت حال کو جب انسان نے اپنی زبان میں تحریر کیا تو اس کے ان احساسات و جذبات کے اظہار نے ادبی شکل اختیار کر لی۔ ادبی اظہار کے لیے مواد کی فراہمی کی دو صورتیں ہوتی ہیں، اول سماجی زندگی دوم انسان کی تخیلی یا داخلی زندگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کی داخلی یا تخیلی زندگی بھی سماجی یا خارجی زندگی سے بہت متاثر ہوتی ہے، کوئی بھی خیال خلا میں نہیں پیدا ہوتا ہے اس کے لیے سماجی زندگی درکار ہوتی ہے اور اکثر داخلی زندگی سماجی زندگی کا ہی ردعمل ہوتی ہے ۔ اس لیے سماج کا ادب سے رشتہ بہت فطری ہے۔ در اصل ادب کا محور انسان ہوتا ہے ظاہر ہے انسان سماجی حیوان بھی ہے اور اس کی ذاتی زندگی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ادب میں سماجی زندگی کی عکاسی ناگزیر ہے جن چیزوں مثلاً تنہائی اور داخلی احساسات کو اکثر ذات سے متعلق کیا جاتا ہے دراصل وہ بھی سماجی زندگی کا رد عمل ہی ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام