1857 کے بعد اردو اخبار

ابتدائی اُردو اخبارات کی شکل وصورت ان کی تعداد اشاعت اور خبروں کی نوعیت اور حصول کے سلسلے میں یاد رہے کہ یہ روزانہ اخبارات نہیں تھے بلکہ پندرہ روزہ ہفتہ روزہ یا زیادہ سے زیادہ سہ روزہ اخبارات ہوا کرتے تھے۔ سائز کے اعتبار سے بھی آج کے روز ناموں کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہوتے تھے۔ خبروں کے لیے یہ اخبارات زیادہ تر انگریزی اخبارات پر انحصار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دیسی ریاستوں کی جانب سے نکلنے والے قلمی اخبارات سے بھی مواد حاصل کرتے تھے۔ کچھ اچھے اخبارات کے نامہ نگار بھی تھے۔ مثلاً مولوی محمد باقر نے اپنے دہلی اردو اخبار کے لیے کچھ نامہ نگار مقرر کر رکھے تھے۔ اس زمانے میں بڑی بڑی سرخیوں کا رواج نہیں تھا۔ ادارے بھی اس وقت نہیں لکھے جاتے تھے۔ کبھی کبھی خبر کے ساتھ ہلکا پھلکا تبصرہ کر دیا جاتا تھا۔ اس کو اس زمانے کا ایڈیٹوریل تصور کیا جاسکتا ہے۔ اخباروں کی اشاعت بہت کم تھی۔ مثال کے طور پر دہلی اردو اخبار کی صرف 69 کاپیاں چھتی تھیں۔ لاہور کے اخبار 'کوہ نور' کی سب سے زیادہ یعنی تقریباً ساڑھے تین سو کاپیاں چھتی تھیں گویا کہ یہ اپنے وقت کا بہت بڑا اخبار تھا۔ اشاعت کی اس کمی کا سبب تعلیم کی کمی بھی تھی اور اس کے علاوہ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی اخبار پڑھنے کا شوق ابھی عام نہیں ہوا تھا۔11 مئی 1857ء کو انگریزوں کے خلاف بغاوت کی شروعات ہوئی۔ اس وقت دلی پر کیا گزری اس کا مفصل احوال اس وقت کے کچھ اخباروں میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً دہلی اردو اخبار، صادق الاخبار اور کوہ نور میں اس کی تفصیلی رپورٹیں شائع ہوئیں۔ 20 ستمبر 1857ء کو یعنی چار مہینے دو دن بعد دہلی میں یہ بغاوت لارڈ کیٹنگ کے ذریعے کچل دی گئی ۔ اس مدت میں دہلی اور نواحی علاقوں میں انگریزی حکومت ختم بھی ہوئی اور بہادر شاہ ظفر کو ایک بار پھر دہلی کا بادشاہ بنایا گیا مگر یہ کامیابی چند دن کی تھی ۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد بادشاہ گرفتار ہوئے اور انہیں رنگون بھیج دیا گیا ۔ بغاوت کی یہ کہانی ایک الگ اور دل دہلا دینے والی داستان ہے۔ صحافتی نقطہ نظر سے بھی بہت سے اخبارات کے ایڈیٹروں اور مالکوں کو طرح طرح کی سزائیں دی گئیں ۔

بغاوت کے بعد لارڈ کیٹنگ نے ہندستان کے سارے اخباروں پر سخت پابندیاں لگا دیں ۔ اخباروں کے لیے لائسنس لینا اور سینٹر کرانا ضروری ہو گیا ۔ نتیجتا اخباروں نے دم توڑنا شروع کردیا ۔ بہت سے اخبار بند ہو گئے جو بچے رہے وہ انگریزی حکومت کے ہور ہے ۔ بغاوت کے بعد کچھ دنوں تک تو اخباروں پر سناٹا چھایا رہا لیکن جلد ہی یہ خاموشی ٹوٹی اور ایک نئے حوصلہ نئی امید اور نئے عزم کے ساتھ اخباروں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ چنانچہ انیسویں صدی کے اواخر تک ہندستان کی تقریباً سبھی زبانوں میں بہت سے اخبار اور رسالے دوبارہ نکلنے شروع ہو گئے ۔ یہ دور اب روزناموں کا تھا۔ اُردو عربی کتابوں کی طباعت میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے منشی نول کشور نے 1858ء میں لکھنو سے اودھ اخبار شروع کیا ۔ یہ اخبار پہلے ہفتہ وار تھا پھر سہ روزہ ہوا اور 1877 ء میں روزنامہ ہو گیا ۔ اپنے وقت کا یہ اردو کا بہت بڑا اخبار تھا ۔ ایک زمانے میں یہ اخبار چالیس سے اڑتالیس صفحات پر مشتمل ہوتا تھا۔ انگریزی اخباروں کو چھوڑ کر یہ پہلا ایسا اخبار تھا جس کے رپورٹر مختلف صوبوں کی راجدھانیوں میں تعینات تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ہندستان کی مختلف راجدھانیوں میں حکومت کے نمائندے رہتے ہیں یا منشی نول کشور کے۔ اُردو کے بہترین ادیب، شاعر، مضمون نگار، مثلاً مولانا عبد الحلیم شرر ، پنڈت رتن ناتھ سرشار ،شیو پرشاد ، یاس یگانہ چنگیزی ، شوکت تھانوی وغیرہ اس اخبار سے وابستہ تھے۔

1859ء میں ڈاکٹر مکند لال نے تاریخ بغاوت ہند کے نام سے ایک ماہنامہ آگرہ سے اور منشی ایودھیا پر شاد نے 1860ء میں ایک ہفت روزہ ' خیر خدا خلق' اجمیر سے جاری کیا ۔ 1861ء میں رائے گنیش لال نے میرٹھ سے اخبار ” جلوہ طور نکالا ۔ جس کے ایڈیٹر سید ظہور الدین طور تھے۔ یہ اردو کے مشہور شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق کے شاگر د بھی تھے۔ اس درمیان سرسید احمد خاں نے نئی تہذیب کی روشنی پھیلانے کے لیے علمی وادبی صحافت کو اپنا وسیلہ بنایا اور ان کی کوششوں سے اخبار سائنٹفک سوسائٹی کا اجرا مارچ 1866ء میں عمل میں آیا ۔ اخبار کے صفحات دو کالم میں تقسیم ہوتے تھے اور دوسرے کالم کے مضامین انگریزی میں ہوتے۔ پہلے ہفتہ روزہ تھا پھر پندرہ روزہ ہو گیا۔ اخبار کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی لکھتے ہیں۔ کم سے کم شمالی ہند میں عام خیالات کی تبدیلی اور معلومات کی ترقی اس پرچے کے اجرا سے شروع ہوتی ہے ۔ 32 سال تک یہ اخبار با قاعدگی کے ساتھ نکلتا رہا۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے ایک خالص علمی اصلاحی رسالہ تہذیب الاخلاق شروع کیا جس نے نہ صرف لوگوں کو بے حدمتاثر کیا بلکہ اردو زبان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے آج بھی جاری ہے ۔ 1872ء میں منشی محمد شریف نے بنگلور سے منشور محمدی کے نام سے ایک اخبار جاری کیا جوتحریک آزادی کی حمایت اور انگریزوں کے سامراجی ارادوں اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرتا تھا۔ 1877ء میں لکھنؤ میں ایک اور بڑا اخبار اودھ پنچ منظرعام پر آیا ہے جسے سجادحسین نے 'لندن پنچ' کی طرز پر جاری کیا تھا جو بے حد مقبول ہوا۔ اس کے بعد مختلف شہروں سے پنج ، اخباروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ مثلاً سر پنچ ہند، لکھنو پنجاب پنچ، لاہور کلکتہ پنچ، انڈین پنچ ،بنگال پنچ، کشمیر پنچ وغیرہ۔ اودھ پنچ 35 سال یعنی 1912 تک جاری رہا۔ اس کے لکھنے والوں میں مرزا مچھو بیگ ستم ظریف ،پنڈت تر بھوں ناتھ ہجر ،منشی جوالا پرشاد برق، منشی احمد علی شوق، احمد علی کسمنڈوی اور اکبرالہ آبادی قابل ذکر ہیں۔ دوسرے اخباروں خاص طور پر منشی نول کشور کے اودھ اخبار سے اس کی نوک جھونک بھی چلتی رہتی تھی ۔ لاہور سے جاری ہونے والا پنڈت قلندر رام کے اخبار' اخبار عام' (اجرا 1871ء) کے بعد انیسویں صدی کے آخری حصے

میں ایک اور بڑا اخبار 'پیسہ اخبار' جاری ہوا۔ اسے منشی محبوب عالم نے 1887ء میں پنجاب کے گوجرانوالہ شہر اور بعد میں لاہور سے ایک ہفتہ وار اخبار کے طور پر شروع کیا تھا جو بہت مقبول ہوا۔ منشی محبوب عالم کی ہمت قابلیت اور انتظامی صلاحیت کے سبب اخبار نے تیزی سے ترقی کی ۔ شروع میں اس کی صرف سوکاپیاں چھپتی تھیں بعد میں اس کی اشاعت دس ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی اور دس بارہ سال بعد یہ اخبار روزانہ چھپنے لگا۔ منشی محبوب عالم نے اسے اخبار کے بالکل صحیح صحیح اصولوں پر نکالنے کی کوشش کی۔ خبروں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی جاتی تھی، مضمون کم اور شعر و شاعری تقریب نہ ہونے کے برابر ۔ انہوں نے اس اخبار کو خالص تجارتی اصولوں پر چلایا۔ لہذا اشتہاروں کو بھی خاصی جگہ دی جاتی تھی ۔

محبوب عالم اور اودھ اخبار کے بانی منشی نول کشور و اخبارات کی دنیا میں تقریبا وہی مقام حاصل ہے جو انگلینڈ میں جان والٹر ہارس درتھ کو حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اخبارات کی ترقی کے لیے وقف کر دی منشی محبوب عالم نے کئی اخبارات اور اور رسالے جاری کیے جن میں عورتوں اور بچوں کے رسائل بھی شامل تھے ۔ 1902 ء میں اپنی ادارت میں ایک ماہانہ رسالہ 'بچوں کا اخبار' کے نام سے جاری کیا تھا۔ اُردو زبان میں بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایسے رسائل پر وہ بہت زور دیتے تھے۔ منشی محبوب عالم نے پنجاب کو کئی نامور اخبار نویس دیے۔ ان میں بابودیناناتھ بھی تھے جنہوں نے بعد میں مشہور اخبار ہندستان جاری کیا تھا۔ صدی کے آخر تک ملک کے تقریباً تمام حصوں سے اُردو اخبارات اور رسائل نکل رہے تھے ۔ اس عرصے میں اخبارات کی زبان بھی صاف ستھری ہوتی گئی۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام