اُردو اخبار کا آغاز
جام جہاں نما اُردو کا اولین مطبوعہ اخبار ہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتہ سے جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ایڈٹر منشی سدا سکھ مرزا پوری اور مالک ہری ہردت تھے اور یہ ولیم ہوپکنس پیئرس کے مشن پریس سے چھپتا تھا۔ یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا ۔ شروع میں 11 X8 انیچ تقطیع میں چھ صفحات پر مشتمل تھا۔ اخبار کے ہر صفحے پر دوکالم اور ہر کالم میں عام طور پر 22 سطر میں ہوا کرتی تھیں ۔ یہ اخبار فارسی ٹائپ میں چھپتا تھا۔ اخبار میں مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی خبروں کے علاوہ جدید علوم وفنون سے متعلق مضامین اور خبریں شائع ہوتی تھیں ۔ اس کے علاوہ شعر و شاعری کو بھی جگہ دی جاتی تھی۔
انیسویں صدی کے نصف حصے یا پہلی جنگ آزادی 1857 ء سے قبل تک ہندستان کے مختلف شہروں سے متعدد اخبارات جاری ہو چکے تھے۔ چنانچہ 1834 ء میں بمبئی سے آئینہ سکندری اردو میں جاری ہوا ۔ حالانکہ فارسی زبان میں یہ اخبار 26 اپریل 1822ء ہی سے جاری تھا۔ یہ ایک نیم سرکاری اخبار تھا اور بمبئی کے گورنر کی ایما پر جاری ہوا تھا۔ یہ اخبار ٹائپ میں چھپتا تھا۔ انیسوی صدی کی تیسری دہائی میں جو سب سے بڑا اخبار سامنے آیا وہ ہے دہلی اُردو اخبار جسے اُردو کے مشہور انشا پرداز مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے 1836ء میں جاری کیا تھا۔ ایک زمانے تک اسی اخبار کو اردو کا پہلا اخبار سمجھا جاتا رہا۔ یہ اخبار 11×8 کی پیش کرتا تھا۔ قوموں کے عروج وزوال کی داستان سے یہ اخبار پر ہے۔ انگریزوں کی مخالفت اور جد وجہد آزادی میں مولوی محمد باقر پیش پیش تھے ۔ بالآخر اس کی پاداش میں انہیں موت کی سزادی گئی۔ ان کا اپنا چھا پہ خانہ اور ایک بڑی لائبریری بھی تھی جو 1857ء کی لڑائی میں تباہ ہوگئی۔ جنگ آزادی کے پہلے دن کی جو مفصل رپورٹ مولوی محمد باقر نے اپنے اخبار میں شائع کی تھی ویسی جامع رپورٹ ہندستان کے کسی دوسرے اخبار میں شائع نہیں ہوئی۔اس دوران ایک اور اخبار "خیر خواہ ہند" مرزا پور سے جاری ہوا۔ اتر پردیش کا یہ پہلا اُردو اخبار ہے ۔ اسے ایک پادری نے 1837ء میں جاری کیا تھا۔ یہ ایک مذہبی اخبار تھا اور اس کا مقصد عیسائیت کی تبلیغ کرنا تھا اخبار میں مختلف علوم وفنون سے وابستہ مضامین بھی چھتے تھے۔ اخبار کا اسلوب نگارش بہت بہتر اور مقبول تھا۔
چوتھی دہائی میں مزید کئی اخبارات سامنے آئے ۔ 1841ء میں دلی سے سید الاخبار جاری ہوا ۔ اسے سرسید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں نے جاری کیا تھا۔ اس کے ایڈیٹڑ سید عبدالغفور تھے ۔ 1841ء ہی میں "آئینہ گیتی نما" سید اولاد علی کی ادارت جاری ہوا ۔۔یہ ایک ہنامگامہ خیز صحافی تھے ۔مصلح الدوالہ سیدابوالقاسم وقائع نگارکی ادارت میں دلی سے 'سراج الاخبار' بھی جاری ہواتھالیکن یہ فارسی زبان میں تھا اس میں کبھی کبھی اردو غزلیں وغیرہ شائع ہو جاتی تھیں ۔ اس کے بعد مدراس سے 1842 ء میں "جامع الاخبار " جاری ہوا ۔ اسے جنوبی ہند کا پہلا اردو خبر تسلیم کیا جاتا ہے۔ سید رحمت اللہ اس کے ایڈیٹر تھے۔ اخبار وہ صفحات پر مشتمل ہوتا تھا اور اُس زمانے میں یہ ایک بہتر اخبار تھا جو انگریزی اخبارات کے طرز پر شائع ہوتا تھا۔ یہ اپنے عہد کا دلچسپ مرقع اور دلکش تر جمان تھا۔ ہندستان کے دور دراز شہر اور مقامات کی خبریں اس میں شائع ہوتی تھیں ۔ زبان ٹکسالی اُردو کے بجائے مدراس کے مقامی الفاظ محاورات اور اصطلاحات سے مزین ہوتی تھی ۔ اسلوب نگارش میں کہیں کہیں لکھنو کی تقلید ہوتی تھی ۔
جدید علوم کے فروغ میں قدیم دلی کالج کی بیش بہا خدمات رہی ہیں ۔ اسے قدیم وجدید کے سنگم کی حیثیت حاصل ہے۔ ہندستان کی نشاۃ ثانیہ میں اس کالج کا بہت اہم رول رہا ہے جہاں نادر روزگار شخصیات موجود تھیں ۔ 1845ء میں اس کالج سے بارہ صفحات پر مشتمل ہفتہ وار اخبار " قران السعدین" جاری ہوا ۔ اس کے پہلے ایڈیٹر پنڈت دھرم نارائن بھاسکر تھے جو غیر معمولی استعداد رکھتے تھے اور شائستہ ذوق صحافت کے مالک تھے ۔ اخبار میں سائنس، ادب اور سیاسی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ اپنی علمی افادیت مضامین کے تنوع اور حسن ترتیب کے اعتبار سے ہندستان کے ممتاز اخباروں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ 23 مارچ 1845 ء کو قدیم دلی کالج ہی سے "فوائد الناظرین“ منظر عام پر آیا ۔ اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر تھے جو متنوع کمالات اور علمی انکشافات کی وجہ سے انیسویں صدی کی ممتاز شخصیت تصور کیے جاتے تھے ۔ سائنس اور ریاضیات میں ماہر ہونے کے علاوہ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ بیش بہا خدمات انجام دیں ۔ مغربی علوم و فنون کا ذوق عام کرنے اور انسانی شعور کو بیدار کرنے کی غرض سے ہی انہوں نے یہ رسالہ جاری کیا جو پندرہ روزہ تھا اور با تصویر شائع ہوتا تھا ۔ 1847ء میں ماسٹر رام چندر ہی نے "خیر خواہ ہند" کے نام سے ایک اور اخبار جاری کیا تھا۔ اس کے دو ہی شمارے شائع ہوئے تھے کہ ماسٹر رام چندر کو پتہ چلا کہ اس نام سے ایک اخبار مرزا پور سے شائع ہو رہا ہے لہذا انہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے 'محب ہند' کر دیا اور بعد میں اس نام سے نکلتا رہا۔ اخبار میں متفرق نوعیت کے تاریخی سیاسی سوانحی ادبی سائنسی اور سماجی موضوعات کا احاطہ کیا جاتا تھا۔
1847ء میں لکھنؤ کا پہلا اخبار 'لکھنو اخبار' کے نام سے جاری ہوا اس کے ایڈیٹر لال جی تھے۔ اس کے علاوہ اسی سال میرٹھ سے جام جمشید بابوشیوچندر ناتھ کی ادارت میں اور بریلی سے مولوی عبد الرحمن کی ادارت میں 'عمدۃ الاخبار' جاری ہوا۔ بنارس سے بھی ” اخبار سدھا کر پنڈت رتن ایشور تیواری کی ادارت میں جاری ہوا ۔ اس کا رسم الخط دیوناگری تھا لیکن زبان اُردو استعمال کی جاتی تھی۔ بنارس کا یہ پہلا اخبار ہے اسی طرح آگرہ سے منشی قمر الدین کی ادارت میں 'اسعد الاخبار ' اور شیخ خادم علی کی ادارت میں ' مطلع الاخبار' جاری ہوئے ۔ اگرچہ صدر الاخبار کو آگرہ میں اُردو کا پہلا اخبار تصور کیا جاتا ہے جو 1846 ء میں جاری ہوا تھا ۔ 1848ء میں مدراس سے ایک اور اخبار ' اعظم الاخبار' نواب غلام غوث خاں اعظم کی ایما پر جاری ہوا۔ ان سے تخلص کی مناسبت سے اس کا نام" 'عظم الاخبار' رکھا گیا۔ ان کا سرکاری نشان بھی اخبار کے سرورق پر چھپتا تھا۔ اس سال دلی سے فوائد الشائقین پربھودیال کی ادارت میں شائع ہوا جو گورنمنٹ گزٹ کا اُردو ترجمہ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ منصفی کے امتحان میں شامل ہونے والے طلبہ کے لیے مفید مضامین بھی شامل کیے جاتے تھے ۔ 1848ء کے اواخر میں منشی محمد امیر خاں کی ادارت میں آگرہ سے 'قطب الاخبار ' جاری ہوا جو آٹھ صفحات پر مشتمل عام خبروں کا پرچہ تھا۔ اسی طرح آگرہ ہی سے اُردو کا پہلا ادبی گلدستہ ' معیار الشعرا' جاری ہوا جو پندرہ روزہ تھا اور سید مددعلی تپش کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس سال بنارس سے دو ماہانہ رسالوں کے اجرا کا ذکر ملتا ہے ۔ یعنی رسالہ ” مراۃ العلوم جس کے ایڈیٹر ہربںس لال اور مالک بابو بھیروں پر شاد تھے اور دوسرا باغ و بہار جس کے ایڈیٹر بابو کیدار ناتھ گھوش اور کالی پرشاد تھے۔ 1849ء میں مدراس سے ایک اور قابل ذکر اخبار 'آفتاب عالمتاب' جاری ہوا۔ اس کی خبروں کا حوالہ مشہور ریاضی داں ماسٹر رام چندر کے اخبار فوائد الناظرین میں پایا جاتا ہے ۔ اسی سال آگرہ سے " اخبار النواح“ جاری ہوا۔ اس کا پورا نام نزہت الارواح و اخبار النواح“ تھا اس کے ایڈیٹر اور مالک حکیم جواہر لال تھے۔ اس کے علاوہ مولوی حسن بخش کی ادارت میں گورنمنٹ گزٹ جاری ہوا جو سرکاری گزٹ کا اردو ترجمہ ہوا کرتا تھا۔ 1849ء کے اواخر میں آگرہ سے ایک اور ادبی گلدستہ ” معیار الشعرا“ کے نام سے بنسی دھر کی ادارت میں جاری ہوا۔
1850ء میں کوہ نور لاہور سے جاری ہوا۔ اس کے ایڈیٹر منشی ہرسکھ رائے تھے جو جام جمشید میرٹھ کی ادارت کرچکے تھے ۔ یہ اردو زبان اور فارسی رسم الخط میں پنجاب سے جاری ہونے والا پہلا اخبار ہے ۔ اسی سال بنارس سے زائرین ہند جاری ہوا ۔ اخبار مراۃ العلوم بند ہو جانے کے بعد ہربنس لال نے اپنا ذاتی مطبع قائم کیا اور وہیں سے اپنی ادارت میں اسے جاری کیا ۔ 1851ء میں بنارس سے ایک اور اخبار بنارس ہرکارہ سید احمد علی کی ادارت میں جاری ہوا۔ اس میں عام دلچسپی اور کچھ خاص اہمیت کی خبریں ہوتی تھیں ۔ اسی سال امرتسر سے باغ نور اور لدھیانہ سے اخبار انور علی نور اس کے علاوہ سیالکوٹ سے ریاض نور جاری ہوا جو بعد میں ملتان منتقل ہو گیا ۔ 1852ء میں آفتاب ہند جاری ہوا اسے بنارس سے بابو کاشی داس متر نکالتے تھے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل یہ اخبار کاشی پریس سے چھپتا تھا۔ معاصر اخبارات میں یہ بہتر طرز تحریر کا حامل اور ذی اثر اخبار تھا۔ 1853ء میں غلام نصیر الدین کی ادارت میں ملتان سے اخبار " شعاع الشمس اور سیالکوٹ سے چشمہ فیض جاری ہوا۔ اس کے مالک دیوان چند تھے ۔ اسی سال دلی سے جمیل الدین خاں ہجر نے صادق الاخبار جاری کیا ۔ 1857ء سے قبل تک اس نام سے کئی اخبار نکلتے تھے۔ 1854ء میں کئی اور اخبارات جاری ہوئے۔ بنارس سے گوند رگھوناتھ کی ادارت میں بنارس گزٹ اندور سے پنڈت دھرم نارائن بھاسکر کی ادارت اور مہا راجہ ہولکر نیز این سی ہملٹن کی سرپرستی میں 'مالوہ اخبار ' اور مرزا نصراللہ بیگ کی ادارت میں جاور دے محتشم الاخبار جاری ہوئے ۔ اسی طرح پنجاب کے پشاور اور بٹالہ گرداسپور سے اخبار مرتضائی اخبار مطلع الانوار" اور نیر اعظم منظر عام پر آئے۔ 1855ء میں بمبئی سے " کشف الاخبار کاشف الاسرار، منشی امان علی لکھنوی کی ادارت میں جاری ہوا۔ اس کے بعد مدراس سے شاہ محمد صادق شریف چشتی نے اخبار ” صبح صادق جاری کیا ۔ 1856 ء میں لکھنو سے کئی مشہور اخبارات نکلے۔ خانوادہ فرنگی محل کی ممتاز شخصیت اور رجب علی بیگ سرور کے دوست مولوی محمد یعقوب انصاری نے " اخبار طلسم لکنھو“ جاری کیا۔ اس کے علاوہ امیر مینائی اور رگھو پیر پر ساد عیاش نے سحر سامری عہد شہنشاہی کے وقائع نگار بینی پرشاد نے اعجاز لکھنو اور عبداللہ نے 'مخزن الاخبار' لکھنو سے جاری کیے۔ مارچ 1857ء میں ' معدن الاخبار' اور عیار الاخبار بھی یہیں سے جاری ہوئے ۔ ان اخبارات میں لکھنوی طرز فکر تہذیب و تمدن اور اپنے عہد کی ہوبہو عکاسی ملتی ہے ۔ ساتھ ہی معاشی بحران سیاسی آویزش بدحالی بے انتظامی اور خستہ حالی کا دلدوز انداز میں تجزیہ بھی ملتا ہے۔ لکھنؤ کے ان اخبارات کی زبان منفی رنگین اور اسلوب نگارش پر تکلف ہوا کرتی تھی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں