مرزا ہادی رسوا کی حیات
حيات
مرزا محمد ہادی رسوا 1858ء میں لکھنو کے ایک محلہ کوچہ آفریں خاں میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد مرزا محمد تقی آصف الدولہ کی فوج میں ممتاز عہدے پر فائز تھے ۔ مرزا محمد تقی فارسی زبان و ادب کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ فقہ اور علم نجوم سے دلچسپی تھی ۔ مرزا ہادی رسوا کے نانا نواب احمد علی خاں کا سلسلۂ نسب آصف الدولہ کے نائب حسن رضا خاں سے ملتا ہے۔ نواب احمد علی خاں کی بیوی یعنی مرزا رسوا کی نانی طباطبائی خاندان سے تھیں ۔ رسوا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ پندرہ سولہ سال کی عمر میں والد مرزا محمد تقی کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ جاگیر اور جائداد رسوا کی ناتجربہ کاری اور کم سنی کی وجہ سے رشتہ داروں نے ہڑپ کرلی۔ کچھ دنوں کے لیے اس یتیم و یسیر بچے کی سرپرستی خالہ اور ماموں نے قبول کی چند ہی دنوں بعد یہ پتے بھی ہوا دینے لگے۔ خالہ اور ماموں کے مظالم اتنے بڑھے کہ تنگ آکر مرزا رسوا نے ننیال چھوڑ دیا لکھنؤ چلے گئے ۔ وہاں اپنے والد مرزا محمد تقی کے ایک دوست شیخ حیدر بخش کے یہاں قیام کیا۔ حیدر بخش اعلیٰ درجے کے خطاط تھے۔ دستخط اور دستاویز بنانے میں ماہر تھے۔ دھوکہ دہی کی پاداش میں انہیں طویل سزا ہوئی۔ جیل ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بعد رسوا پھر در بدر مارے مارے پھرتے رہے۔ رہاسہا سرمایہ بیچ ڈالا اور تعلیم حاصل کرتے رہے ۔
تعلیم
اپنے والد مرزا محمد تقی سے رسوا نے عربی فارسی ریاضی اور نجوم کی تعلیم حاصل کی لکھنو کے مشہور اساتذہ میں مولوی محمد یحییٰ کا بڑا چرچا تھا ان سے شرح جامی کا درس لیا۔ مولوی کمال الدین سے فلسفہ اور منطق کی تعلیم حاصل کی۔ انگریزی میں لیاقت اپنی محنت و کوشش سے پیدا کی ۔ اپنے تعلیمی مصارف اور گھریلو اخراجات کے لیے والد سے ورثے میں ملے مکانات فروخت کر کے انٹرنس پاس کیا۔ 1885ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی۔ اے۔ کیا۔ ریاضی کا شوق پورا کرنے کے لیے ٹامس رڑ کی کالج سے اورسیر (Overseer) کا امتحان کامیاب کیا۔ زندگی بھر نئے نئے علوم سیکھتے رہے۔ جس فن میں گئے کمال پیدا کیا۔ موسیقی کا شوق ہوا تو تین سو کے قریب راگ راگنیوں کے لیے انگریزی Notations کی طرز پر علامات مقرر کیے ۔ اردو شارٹ ہینڈ اور اردو ٹائپ رائٹر کے سلسلے میں بھی انہوں نے بہت کام کیے۔
کیمیا سے دلچسپی ہوئی تو ایک لوہار کے لڑکے کو ٹیوشن دے کر اس کے اخراجات پورے کرتے رہے۔ شام میں جب لوہار کا کام ختم ہو جاتا تو اس کی بھٹی ان کے تجربات کے کام آتی ۔ کوئٹہ میں ان کا ایک گھر تھا۔ کیمیا کے آلات اور اخراجات کے لیے وہ گھر بھی فروخت کر دیا۔ اس زمانے میں کیمیا کی تعلیم اتنی عام نہیں تھی ۔ کتا بیں توملتی ہی نہیں تھیں ۔ ایک دوست کے ذریعہ لندن سے منگواتے تھے۔
ملازمتیں اور وفات
رزکی سے Overseer کا امتحان پاس کرنے کے بعد سب سے پہلے ریلوے میں بحیثیت سروئیر ملازمت کی۔ کوئٹہ لائن کی تیاری میں مرزا کا اہم حصہ رہا۔ بلوچستان میں ریل کی پٹڑیاں بچھانے اور اسٹیشنوں کے نقشے بنانے میں بڑی محنت کی۔ اس کے بعد گڑوں کی تعمیر کا کام سپر د کیا گیا جو ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ ملازمت سے استعفیٰ دے دیا لکھنو پہنچے اور وہاں نخاس مشن اسکول میں فارسی کے استاد مقرر ہوئے ۔ یہاں سے جو تنخواہ ملتی تھی وہ مرزا کی کیمیا کے تجربے خانے اور کیمیا گری کے لیے نا کافی تھی۔ ٹیوشن کر کے کام چلا لیتے تھے۔ اپنی قابلیت کی بنا پر ترقی کرتے ہوئے کر سچین کالج لکھنو میں فارسی کے استاد ہو گئے۔ اس کالج میں تینتیس سال تک ملازمت کی۔
مرزا رسوا کی غیر معمولی صلاحیتوں، فلسفہ، منطق اور سائنسی علوم میں ان کی بے پناہ لیاقت اور کارناموں کے پیش نظر ستمبر 1912ء میں دار الترجمہ جامعہ عثمانیہ میں بہ حیثیت مترجم تقر عمل میں آیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریبا ساٹھ سال تھی ۔ چار سو رو پیہ مشاہرہ مقرر ہوا۔ یہاں انہوں نے بارہ سال تک ترجمہ کے فرائض انجام دیے۔ جب کبھی فلسفہ اور منطق کے استاذ چھٹی پر ہوتے تو مرزا ہادی کو ان مضامین کی کلاس لینے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ یہاں انہوں نے فلسفہ منطق اخلاقیات اور معاشیات کی دس کتابیں ترجمہ کیں۔ آخری وقت تک دارالترجمہ سے وابستہ رہے۔ 21 اکتوبر 1931 ء بروز چہارشنبہ انتقال ہوا ۔مرلی دھر باغ حیدر آباد کے مشہور قبرستان میں رسوا کی تدفین عمل میں آئی ۔۔عکی حیدر نظم طبا طبائی بھی یہاں دفن ہیں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں