علامہ شبلی نعمانی کی تحقیق نگاری
ان کی تعلیم کا سلسلہ اصلا اس وقت شروع ہوا جب وہ مولانا فاروق چریا کوئی کی خدمت میں عربی علوم سیکھنے کے لئے حاضر ہوئے ۔ درسیات کی تکمیل کے بعد ادب ، فقہ اور حدیث وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے رامپور، سہارنپور، لکھنو اور لاہور کا سفر اختیار کیا۔
شبلی جب اپنے چھوٹے بھائی سے ملنے کے لئے علی گڑھ گئے تو وہاں سرسید سے بھی ملاقات ہوئی ۔ سرسید شبلی کی ذہانت اور علمی لیاقت سے بے حد متاثر تھے۔ سرسید کے کہنے پر شبلی نے علی گڑھ میں ملازمت کر لی۔ علی گڑھ میں رہ کر شبلی نے بہت کچھ سیکھا۔ شبلی ایک عالم ، مفکر، مؤرخ، ادیب اور ناقد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ولادت ایک خوشحال زمیندار گھرانے میں مئی ۱۸۵۷ء میں اعظم گڑھ کے ایک معروف قصبہ بندول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مولوی شکر اللہ سے حاصل کرنے کے بعد شبلی نے عدالت میں نقل نویسی سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ انہیں اس ملازمت - سے طبعی مناسبت نہیں تھی۔ اسی زمانے میں شبلی شعر و شاعری کر رہے تھے۔ شبلی عربی اور فارسی دونوں زبانوں کے عالم ہیں۔
ان کا شمار ان ادبیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت سی تصانیف چھوڑی ہیں اور مختلف اصناف پر قلم جنبانی کی ہے۔ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے۔ اردو میں ان کی شاعری اخلاقی ، سماجی اور سیاسی اصلاح کی تلقین کرتی ہے۔ ۱۸۸۵ء میں انہوں نے مثنوی " صبح امید لکھی۔ یہ مثنوی قوم کے تنزل کا مرثیہ ہے ۔ اس مثنوی میں حال اور مستقبل دونوں عہد کی بات کی گئی ہے۔ اس میں مسلمانوں کے عروج وزوال کو پر درد انداز میں بیان کرنے کے بعد سرسید کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک پر ایک نئی صبح کی آمد کی خبر سنائی گئی ہے۔ اس کا شمار اردو کی بہترین نظموں میں ہوتا ہے۔ اس مثنوی کو علی گڑھ میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔
ان کا ابتدائی اردو کلام معمولی مگر فارسی کلام زبردست ہے۔ شبلی کے اردو کلام کا مجموعہ کلیات شبلی کے نام سے شائع ہوا، جبکہ فارسی کلام دیوان شبلی کے نام سے منظر عام پر آیا، جدید اردو شاعری کی بنیاد گرچہ مولانا حالی اور محمد حسین آزاد نے ڈالی مگر ہندوستان میں فارسی زبان میں نئی شاعری کی بنیاد مولانا شبلی کے ہاتھوں ڈالی گئی ۔ فارسی شاعری میں انہوں نے نئے خیالات، قومی احساسات اور مذہبی جذبات ، زبان کی چاشنی اور محاوروں کی صحت کو اس طرح داخل کیا کہ مسلمانوں کی قومی زندگی کے لئے یہ چیز آب حیات بن گئی۔ انہوں نے دیوان شبلی ، کلیات شبلی، دسته گل اور مثنوی صبح امید میں غزل، مثنوی ، قصیدہ ، قطعہ اور نظم نگاری کا نمونہ پیش کیا ہے۔
در اصل ان کی طالب علمی کا دوسرا دور علی گڑھ میں شروع ہوا۔ علی گڑھ ہی میں انہیں سرسید اور ان کی لائبریری کے علاوہ پروفیسر آرنلڈ جیسے علم دوست انسان سے استفادہ کا موقع ملا۔ انہوں نے آرنلڈ سے فرنچ زبان سیکھی اور ان کو عربی زبان سکھائی۔
علی گڑھ پہنچنے کے بعد انگریزی تعلیم کی ضرورت کا احساس ہوا۔ اسی مقصد کے تحت اعظم گڑھ میں نیشنل اسکول کے نام سے ایک انگریزی مدرسہ قائم کیا۔ انہیں کی کوششوں کی بدولت ۱۹۰۳ء میں ندوہ میں انگریزی بحیثیت ایک مضمون پڑھائی جانے لگی۔ علی گڑھ پہنچنے کے بعد ان کے اندر تاریخی اور تصنیفی ذوق پیدا ہوا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کو اپنا ماضی اور حال تاریک نظر آرہا ہے اور مسلمان ذہنی طور پر منتشر اور ان کے عقائد نئے مغربی تصورات کے سامنے متزلزل ہیں تو انہوں نے المامون ، سیرت النعمان الفارق، الغزالی اور سیرت النبی جیسی کتابیں لکھیں اور ۱۸۸۷ء میں مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم پر ایک جامع مقالہ لکھا۔ ان کتابوں میں اور اس مقالے میں مسلمانوں کی ولولہ انگیزتاریخ بیان کر کے اس پر فخر کیا گیا ہے۔
شبلی کا کہنا ہے کہ کسی واقعے کو صرف اس لئے درست نہیں مان لینا چاہئے کہ وہ کسی خاص کتاب میں درج ہے بلکہ اس واقعے کی صحت و صداقت کے لئے دلائل اور استدلال کے ذریعہ تحقیق کرنی چاہئے۔ اپنی کتابوں کی تالیف کے وقت قبلی ان باتوں کا خیال رکھتے تھے۔
شبلی ایک ممتاز سوانح نگار کی حیثیت سے علمی و ادبی حلقہ میں پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی عظیم شخصیتوں پر بڑی تحقیق و تدقیق کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔ ان کی اہم سوانحی تصانيف المامون ، سیرۃ النعمان، الغزالی اور سوانح مولانا روم ہیں۔ المامون کو شبلی نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جس میں مامون کی ولادت ، تعلیم و تربیت، ملک کی اندرونی جنگیں اور متعد د فتوحات کے ساتھ مامون کے اخلاق و عادات کا تفصیلی بیان ہے۔ اس کتاب کو تاریخ بنی العباس کا نچوڑ کہا جا سکتا ہے، انہوں نے اس کتاب میں قصوں اور حکایتوں کو چھان بین کر کے بڑے دل چسپ انداز میں بیان کیا ہے ، مامون الرشید شبلی کی پسندیدہ شخصیت ہیں، اس کے باوجود شبلی نے ان کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں اور کمزوریوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
سيرة النعمان امام ابو حنیفہ کی صرف سوانح عمری ہی نہیں بلکہ ان کے شاگردوں کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتی ہے۔ دو حصوں پر مشتمل امام ابو حنیفہ کی یہ سوانح عمری در اصل مولانا شبلی کے ذوق و شوق کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ وہ حنفی المسلک کے سخت پیروکار تھے۔ شبلی تاریخ و سوانح نگاری میں مہارت رکھتے تھے۔ اس تصنیف میں واقعات کی چھان بین اور کھرے کھوٹے کا خاص خیال رکھا گیا ہے، ساتھ ہی اس میں امام ابو حنیفہ کے شاگردوں کا مفصل ذکر ہے۔
حضرت عمر فاروق تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کی عظیم شخصیت پر لکھی گئی ان کی سوانحی کتاب " الفاروق" میں حضرت عمر فاروق کے اخلاق و عادات اور شجاعت و دیانتداری کا بخوبی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے سیاسی افکار و انتظام اور ملکی نظام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ سوانحی کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ تمہید کے علاوہ حضر ت عمر فاروق کی پیدائش سے انتقال تک کے تمام واقعات اور ملکی فتوحات پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں خلیفہ دوم کے ملکی، مذہبی انتظامات علمی کمالات اور ان کے اخلاق و عادات کا مفصل بیان ہے۔ مولانا شبلی نے اس کتاب کی تصنیف میں روایت و درایت کا بالخصوص اہتمام کیا ہے۔ مولانا شبلی نے واقعات کی جانچ کے دو طریقے بتائے ہیں۔ اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:
واقعات کے جانچنے کے صرف دو طریقے ہیں۔ روایت و درایت ۔ روایت سے یہ مراد ہے کہ جو واقعہ بیان کیا جائے ، اس شخص کے ذریعہ سے بیان کیا جائے ، جو خود اس واقعہ میں موجود تھا اور اس سے لے کر آخری راوی تک روایت کا سلسلہ متصل بیان کیا جائے ، اس کے ساتھ تمام راویوں کی نسبت تحقیق کی جائے کہ وہ صحیح الروایۃ اور ضابط تھے یا نہیں۔ درایت سے یہ مراد ہے کہ اصول عقلی سے واقعہ کی تنقید کی جائے ۔ لے الفاروق کی تمہید میں مزید ایک جگہ لکھتے ہیں:
واقعات کی تحقیق و تنقید کے لئے درایت کے اصول سے بہت بڑی مددمل سکتی ہے ۔ حضرت عمر کی سوانح کو انہوں نے بڑی چھان بین کے بعد لکھی ۔ ہے۔ اس کے لئے انہوں نے اسلامی ممالک کا سفر بھی کیا ہے۔ الفاروق کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی ایک سوانح نگار کے ساتھ مؤرخ بھی ہیں۔
حیدر آباد میں ملازمت کے دوران شبلی نے امام غزالی اور مولانا جلال الدین روم کی سوانح عمریاں الغزالی اور سوانح مولانا روم کے نام سے لکھیں۔ چند مہینوں میں تصنیف کی گئی الغزالی میں امام غزالی کے حالات زندگی علمی کارنامے اور ان کی معروف تصانیف کا ذکر ہے۔ سوانح مولانا روم میں فارسی کے مشہور شاعر مولانا جلال الدین روم کی حیات ، شاعری اور علمی کارناموں کا مفصل ذکر ہے۔ مہدی افادی نے شبلی کے بارے میں سچ کہا تھا وہ تاریخ کے بغیر لقمہ نہیں توڑ سکتے۔ شبلی اپنی سوانح عمریوں میں تاریخ اور حقائق پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ فن سوانح نگاری پر کم توجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الغزالی اور سوانح مولانا روم فن سوانح نگاری کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی ہیں۔
شبلی نے حضرت محمد ﷺ کی سیرت کو لکھ کر اپنا نام ممتاز سوانح نگاروں اور سیرت نویسوں کی فہرست میں شامل کرالیا۔ انہوں نے " بدء الاسلام کے نام سے سیرت نبوی پر ایک مختصر رسالہ علی گڑھ پہنچنے کے بعد لکھا۔ یہ رسالہ اس وقت علی گڑھ کے نصاب میں داخل بھی تھا۔ ان کا سب سے بڑا اور زندہ جاوید کارنامہ ان کی کتاب " سیرۃ النبی ہے ۔ اس کتاب نے شبلی کو شہرت دوام عطا کی ۔ مولانا شبلی سیرت النبی تصنیف کر کے مغربی مستشرقین کے آنحضرت ﷺ کی شخصیت وسیرت سے متعلق بیان کی ہوئی غلط بیانیوں کو دور کرنا چاہتے تھے ، ان غلط بیانیوں نے حضور ﷺ کے متعلق مسلم نو جوانوں کے اندر شکوک و شبہات پیدا کر دیئے تھے جن کا ازالہ صحیح اور معتبر روایتوں پر مشتمل سیرت نبوی تصنیف کر کے کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ شبلی نے سیرۃ النبی کی تصنیف کا ارادہ کیا ۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے اپنی کتاب مولانا شبلی بحیثیت سیرت نگار میں لکھا ہے کہ مولانا شبلی سیرت کی قدیم کتابوں سے مطمئن نہیں تھے ۔ وہ چاہتے تھے کی سیرت کے موضوع پر صحیح روایات کے التزام کے ساتھ ایک مستند کتاب مرتب ہو جائے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ بلند معیار پیش نظر رکھنا چاہا تھا کہ سیرت کے واقعات اولا قرآن سے اخذ کئے جائیں۔ بعدۂ احادیث کی کتابوں سے مراجعت کی جائے سب سے آخر میں کتب سیرت کی روایات کام میں لائی جائیں۔ مزید برآں روایات کی ترجیح کے باب میں محدثین کے دقیق اصولوں سے استفادہ کیا جائے ۔“مولانا شبلی فرماتے ہیں :
خاص سیرت پر آج تک کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں صرف صحیح روایتوں کا التزام کیا جاتا ۔ حافظ زین الدین عراقی جو حافظ ابن حجر کے استاذ تھے ، سیرۃ نبوی میں لکھتے ہیں۔
وليعلم الطالب ان السيرا تجمع ما صح وما قد أنكر یعنی طالب فن کو جاننا چاہئے کہ سیرت میں ہر قسم کی روایتیں نقل کی جاتی ہیں ۔ صحیح بھی اور قابل انکار بھی یہی سبب ہے کہ مستند اور مسلم الثبوت تصنیفات میں بھی بہت سی روایتیں شامل ہو گئیں، اس بنا پر ضروری تھا کہ نہایت کثرت سے حدیث و رجال کی کتا بیں بہم پہنچائی جائیں اور پھر نہایت تحقیق اور تنقید سے ایک مستند تصنیف تیار کی جائے ۔ ۱۸۹۲ء میں شبلی کو اس وقت اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت کا موقع ملا جب وہ علی گڑھ میں فارسی کے استاذ تھے۔ اس سفر سے شبلی کو مسلم ملکوں کے رسم و رواج ، وہاں کے باشندوں کے رہن سہن اور اخلاق و عادات سے متعارف ہوئے۔ اس کا ذکر انہوں نے بہت ہی سادہ، آسان اور شیریں انداز میں سفر نامہ میں کیا ہے۔ یہی شبلی کی طرز تحریر کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اس میں نثر نگاری اور انشاء پردازی کی تمام خصوصیات یکجا ہیں، اگر اس سفر نامہ کو سفرنامہ کی حیثیت سے دیکھا جائے تو پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوا جا سکتا، ہاں اسلامی ممالک کے معمولی واقعات اور رہن سہن سے لطف اندوز ہونے والوں کے لئے ایک نایاب تحفہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں