طنز و مزاح کی نوعیت اور اہمیت
طنز و ادب کی دلچسپ معنویت سے بھر پور اور امتیازی صنف ہے ۔ طنز کو ایسے آلے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جس کے ذریعہ کسی زوال آمادہ معاشرہ، ادارہ یا فرد کے مضحک پہلوؤں کو ادبی اور معقول پیرایہ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ طنز نگار کو دبی نقاد نہ کہا جائے اس کے تمدنی نقاد ہونے میں دورا میں نہیں ہو سکتیں ۔
طنز کے لیے ماحول کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک مخصوص ماحول کے بغیر طنز کا وجود ناممکن ہے۔ لہذا ایسے ہی معاشرہ میں پھلتا پھولتا ہے جس میں نہ صرف ذہنی کلچر موجود ہو بلکہ جس معاشرہ کے افراد حقیقت پسندانہ نقطہ نظر بھی رکھتے ہوں ۔ طنز کا بڑا معاشرتی فائدہ یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں آمرانہ اقتدار اور ظلم وستم کا دور دورہ ہو اور راست تنقید کی گنجائش نہ ہو، ایک اچھا طنز نگار ایسے ماحول میں بھی اپنے فن کے ذریعہ اس پر عائد ذمہ داریوں کو بہ حسن و خوبی پوری کرتا ہے۔ اس لیے میریڈتھ نے طنز نگار کو اخلاقی محتسب قرار دیا ہے۔ حکومت کے قوانین اور مذہبی قیود جہاں اپنی شکست تسلیم کر لیتے ہیں وہاں طنز فتح مند ہوتا ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ طنز نظریاتی نہیں عملی ہوتا ہے ۔ موثر طنز کے لیے طنز نگار کا مخلص اور متوازن ذہن کا حامل ہونا ضروری ہے ۔ طنز کے لیے عقلی کے علاوہ جذباتی زوایہ بھی لازمی ہے لیکن جذبات عقل پر غالب آجائیں تو طنز نا کام ہو جاتا ہے۔ ابہام، اشکال نذاکت اور فلسفہ سے طنز کا مقصد تحمیل نہیں پاتا ۔ عمدہ طنز وہ ہے جس میں قاری رسامع کو زیادہ غور وفکر کی ضرورت نہ ہو بلکہ فوری سمجھ میں آجائے ۔ یعنی طنز کوز و داثر اور چونکا دینے والا ہونا چاہئے ۔ طنز کی انفرادی اہمیت کے باوجود کامیاب طنز کے لیے اس میں مزاح کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر طنز میں مزاح یا خوش طبعی کا عنصر نمایاں نہ ہوتو اسکو ادبی حیثیت حاصل نہیں ہوسکتی۔ طنز نگار اپنے مضامین میں لطافت اور خوش بیانی سے کام لیتا ہے۔ یہیں سے مزاح کے حدود کا آغاز ہوتا ہے اس طرح طنز و مزاح لازم و ملزوم اور ایک ہی تصویر کے دورخ بن جاتے ہیں جس طرح مزاح سے عماری طنز بغض و نفرت کی آئینہ داری کرتا ہے بعینہ خالص مزاح پھکڑ پن میں شمار ہو جاتا ہے۔ گو یا طنز نگار کے لیے مزاح سپر کا کام دیتا ہے۔ طنز کی طرح مزاح کے وجود کے لیے ماحول کی اہمیت مسلم ہے اور دوسرے یہ کہ تنہائی میں ہم مزاح سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ مزاح کے لیے ماحول کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مزاح نگار زندگی سے مواد حاصل ہی نہیں کرتا بلکہ اچھا مزاحیہ ادب ہماری زندگی میں اثباتی اقدار کو بیدار بھی کرتا ہے اسے سکون آشنا بنا تا اور اس میں علو ہمتی اور عالی ظرفی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح وہ انسانی معاشرہ میں نفی کی تکذیب کرتا اور اثبات اور خوبی وخوبصورتی کے لیے راہ ہوا کرتا ہے۔ رشیداحمد صدیقی کے نزدیک بھی طنز و مزاح کا مقصد محض لبستگی کے سامان پیدا کر نا ہیں بلکہ معاشرہ کی منفی منتشر قدروں کے خلاف نبرد آزما ہونا اور معاشرہ کو فلاح و بہبود کی سمت دینا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں