رشید احمد صدیقی کی حیات

 رشید احمد صدیقی 25 دسمبر 1894 کو قصبہ بیریا ضلع بلیا اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبدالقدیر تھا۔ رشید صدیقی بچپن میں زیادہ بیمار رہا کرتے تھے اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم پر کم توجہ دی گئی۔ ان کی دینی تعلیم تو گھر پر ہوئی لیکن اردو اور حساب وغیرہ کے لیے قصبہ کے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ 1908ء میں انہوں نے جونپور میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔ جونپور میں انہوں نے انٹرنس کا امتحان کامیاب کیا۔ انٹرنس کے بعد انہوں نے لگ بھگ ایک سال کلرکی کی اور پھر علی گڑھ کا رخ کیا اور ایم ۔ اے او کالج میں فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ رشید صدیقی کے دور طالب علمی کے احباب میں ڈاکٹر ذاکر حسین سابق صدر جمہوریہ ہند، شفیق الرحمن قدوائی، اور اقبال سہیل لائق ذکر ہیں۔ رشید صدیقی نے طالب علمی کی بھر پور زندگی گزاری 1919 ء میں بی۔ اے اور 1921ء میں انہوں نے ایم۔ اے کیا اور 1922ء میں اُردو مولوی کی حیثیت سے ملازم ہوئے ۔ 1926ء میں لکچرر کی حیثیت سے ان کا تقر عمل میں آیا۔ 1935ء میں وہ ریڈر بنے 1954 ء میں پروفیسر اور یکم مئی 1958 ء کو یونی ورسٹی کی ملازمت سے ان کی سبکدوشی عمل میں آئی۔ رشید صدیقی کی شادی 1923 ء میں جناب شمس الحق پولس انسپکٹر کی دختر جمیلہ خاتون سے ہوئی۔ رشید صدیقی مختلف امراض کا تھوڑا بہت شکار رہے ہیں لیکن گردے کی تکلیف انہیں زیادہ رہی ۔ 1937ء میں لکھنو میڈیکل کالج کے دواخانہ میں ان کا ایک گردہ نکال دیا گیا۔ اپنے مضمون ”شیطان کی آنت "میں انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ 1945ء میں انہیں دوبارہ آپریشن کرنا پڑا لیکن وہ پژمردہ اور ہراساں نہیں ہوئے ۔ اس کے بعد انھیں گردے کی شکایت تو نہیں رہی لیکن عوارض کا سلسلہ جاری رہا۔ جولائی 1955 ء سے وہ عارضہ قلب کا شکار رہے۔ ان کے قلب پر دوبارہ حملہ ہوا۔ وہ کھانے کے شوقین تھے ہی لیکن طبیعت کی ناسازی کے بعد ان کی غذا غیر معمولی پرہیزی ہوگئی ۔ گوشت کھانا انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ ایک پھل کا تھوڑی سبزی اور بالائی نکالے ہوئے دودھ کا دہی۔ رشید صدیقی کو سیاست سے دور کا واسطہ نہیں تھا۔ وہ تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شامل ضرور رہے۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں وہ انجمن طلبہ کے معتمد ر  ہے اور یونی ورسٹی کے طلبہ کے ترجمان " علی گڑھ منتھلی" کے ایک زمانے تک مدیر رہے۔ رشید صدیقی نے شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کی فضا شخصی نوعیت کی رکھی۔ اپنے ماتحتین سے ان کا سلوک گھریلو انداز کا تھا۔ شعبہ میں انہوں نے سوال فہمی اور جواب طلبی سے کبھی کام نہیں لیا۔ ان کی گھریلو زندگی کا بھی یہی حال رہا۔ وہ فضول خرچ تو نہیں تھے لیکن اپنے روز مرہ حسابات کا بھی انہیں اندازہ نہیں تھا اور نہ ان پر کنٹرول۔ رشید صدیقی قلب کے مریض تو تھے ہی، موتیا بند اور ہرنیا نے بھی انہیں پریشان کیا اور پھر بلڈ پریشر ۔ انہوں نے دھیرے دھیرے لکھنا پڑھنا ترک کر دیا تھا۔ ۱۵ جنوری ۱۹۷۵ء کو ان کی طبیعت کچھ زیادہ ہی بگڑ گئی اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔ دوسرے روز یونی ورسٹی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام