حافظ محمود شیرانی کی تحقیق نگاری
حافظ محمود شیرانی کی پیدائش ۷۵ اکتوبر ۱۸۸۰ ء کو ٹونک میں ہوئی اور ٹونک ہی میں حافظ محمود شیرانی اپنے وقت کے ایک عالم اور فاضل تھے۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں آج بھی ان کا شمار صف اول کے ناقدین و محققین میں ہوتا ہے وہ زندہ رہے تو تاریخی فروری ۱۹۴۶ء میں ان کا انتقال ہوا۔
کرداروں کو زندہ کرتے رہے اور مرے تو تاریخی کرداران کو زندہ کر رہے ہیں۔ محمود شیرانی ایک ایسے اسکالر تھے ، جن کی اسکالر شپ کا دائرہ نہ صرف اردو اور فارسی بلکہ تاریخ اور دوسرے مضامین جیسے فلسفہ وغیرہ سے بھی متعلق تھا۔ وہ ان عالموں میں تھے جنہوں نے اردو میں بہت ٹھوس کام کئے شیرانی کی تاریخی اہمیت یہی ہے کہ انہوں نے ادبی تحقیق کے میدان میں بت شکنی کا آغاز کیا۔ شبلی اچھے ادیب ہیں، مسلم شعری ذوق رکھتے ہیں مگر محمد حسین آزاد شاندار انشاء پرواز ہیں، اردو ادب کے محسن ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد پروفیسر بڑی ڈگریوں کے مالک ہیں لیکن زبان و ادب کے رموز سے واقف نہیں اس لئے ان کی تحقیقات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ محمود شیرانی بت شکنی کرتے رہے اور لکھنے والوں کو سکھاتے رہے کہ اور محتاط بننے جستجو میں مزید گہرائی کے لئے علم میں مزید گہرائی پیدا ہوئی شیرانی کا طریق تحقیق یہ تھا کہ جو بات لوگ اب تک مانتے چلے آئے ہیں بلا تحقیق اسے کیوں مان لیا جائے، پہلے وہ تحقیق کرتے تھے پھر وہ جن نتائج پر پہنچتے تھے، بے کم و کاست بیان کر دیتے تھے۔ خواہ وہ دوسروں کے لئے برہمی کا باعث ہی کیوں نہ ہوں ۔ شیرانی نے ادبی تحقیق کے میدان میں جو سرمایہ چھوڑا ہے وہ اصول تحقیق اور عملی تحقیق دونوں کو سمجھنے اور نمونہ بنانے کے لئے آج بھی معاون ہے۔ شیرانی کی تحریروں سے یہ اصول و ضوابط اخذ کئے جاسکتے ہیں کہ حقیقت کی تلاش و جستجو نہایت دشوار اور دلچسپ ہے۔ یہ کام کسی مادی لالچ کے زیر اثر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے لئے تقلیدی انداز سم قاتل ہوتا ہے۔ شیرانی کے نزدیک محقق کو خوش اعتقاد نہیں بلکہ متشلک ہونا چاہئے ، مثبت تشلک کے جذبے کے ساتھ دریافت کردہ سچائیوں کو بے کم و کاست بیان کرنا تحقیق کا تقاضہ ہے۔ اپنے ذہنی مغالطوں کے سبب کسی دوسرے مصنف کو لعن طعن کرنا ان کے نزدیک ناپسندیدہ بات تھی۔ دوسروں کی تحقیق کا احتساب کرتے وقت اس کے کام کی اہمیت اور اس کے مثبت پہلوؤں کا اعتراف کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جس تالیف پر تنقید کی جائے اس کے مؤلف کو اس کی اطلاع ضرور ہونی چاہئے ۔ صرف اغلاط کی نشاندہی کافی نہیں بلکہ درست واقعات و حقائق کے انکشاف کو تحریر میں لانا ضروری خیال کرتے تھے۔ محقق کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ زبان کے تمام ارتقائی مراحل سے واقفیت ہو۔ انہوں نے ماخذ کی تلاش پر زور دیتے ہوئے اردو تحقیق کو ماخذ کی درجہ بنا اور معیار گری کا انتہائی اہم سبق بھی سکھایا ہے۔ بغیر دیکھے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دینا بندی چاہئے ۔ ساتھ ہی دوسرے اہل علم کی تحقیقات سے استفادہ ضرور کرنا چاہئے۔ محمود شیرانی کے بیٹے اختر شیرانی دوسرے میدان کے تھے۔ ہاں اختر کے بیٹے یعنی محمود شیرانی کے پوتے مظہر محمود شیرانی ان کے جانشین ہوئے ۔ مظہر محمود شیرانی نے حافظ محمود شیرانی کے مقالات کو آٹھ جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ ان مقالات میں ان کی شائع شدہ اکثر کتابیں اور مقالات آگئے ہیں۔ جن کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ، مسکوکات ، عروض، لغات اور ادب کی آمیزش سے انہوں نے ادبی تحقیق کے میدان میں کتنے کارنامے انجام دیے ہیں۔ علمی معاملات میں وہ سخت محنت کے عادی تھے۔ ذہن میں اعتدال اور توازن تھا۔ ان کا تحریری کام وسیع بھی اور رنگا رنگ بھی ہے۔ انہوں نے لسانیات، تحقیق، تدوین، تنقید، تاریخ، عروض اور مسکوکات میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں۔ لسانیات کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی کتاب " پنجاب میں اردو ہے ۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں اردو لسانیات کے موضوع پر پہلی کتاب ہے۔ اس موضوع پر لکھنے کے لئے نہ صرف زبان کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھنا ضروری تھا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ سے کما حقہ واقفیت بھی لازمی تھی ۔ محمود شیرانی مسلمانان ہند کی تاریخ کا شعور رکھتے تھے۔ اس کتاب میں شیرانی کو متعصب ہونے کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا۔ وہ پنجاب کے متوطن نہ تھے انہوں نے بڑی ایمانداری سے کام کیا ہے ۔ " پنجاب میں اردو ہی نے محمود شیرانی کو اردو دنیا میں زندگی جاوید عطا کی ہے۔ اس کتاب کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے حافظ محمود شیرانی نے لکھا ہے کہ اس تالیف کا نام اس کے آخری باب پنجاب میں اردو کی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ جو تمام و کمال پنجاب کے اردو گو شعرا کے ذکر واذکار سے مملو ہے کے محمود شیرانی نے سب سے پہلے اس پونے دو سو برس کے عرصے کی لسانی اہمیت اجاگر کی ہے۔ جو فتح دہلی سے پہلے مسلمانوں نے پنجاب میں گزارا تھا۔ اردو اور پنجابی یہ میں قریبی مشابہت سے شیرانی نے یہ نظر یہ اخذ کیا کہ اردو کی بنیاد اس بولی پر قائم ہوتی ہے جو دہلی کی فتح کے وقت مسلمان پنجاب سے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
پنجاب میں اردو میں انہوں نے اردو زبان کے سلسلے میں رائج تھیوری کو غلط ثابت کر کے اپنی نئی تھیوری سے اہل علم کو روشناس کرایا لیکن فوراً ہی تردید میں شائع ہونے لگیں اور کچھ ماہر لسانیات نے ان کے اس کام پر بھر پور وار کر کے اس تصور اور نظریہ کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔
شیرانی کا یہ نظریہ کہ اردو پنجابی سے ہے مکمل طور پر ان کا نہیں۔ اس کی جھلکیاں کئی ماہرین لسانیات کی تحریروں میں مل جاتی ہیں۔ کتابی صورت میں با قاعدہ تھیوری بنا کر پیش کرنے کا سہرا ان ہی کے سر بندھتا ہے۔ حافظ شیرانی گرمرین کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ کے انہو ان کو لسانیات ہند کا دیوتا کہنا موزوں معلوم ہوتا ہے۔ ان کی تالیف " جائزہ لسانیات ہندوستان اور اس کی مخیم مجلدات ان کے علم و فضل کی شاہد عادل ہیں حافظ محمود شیرانی نے خالق باری میں پائی جانے والی خامیوں کو یکے بعد دیگرے بڑے واضح اور مدلل و مفصل انداز میں پیش کیا ہے۔ جن کے پیش نظر امیر خسرو کی طرف اس تالیف کا انتساب ان کی نظر میں امیر خسرو کی جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ خالق باری پر محمود شیرانی کے اعتراضات کو دیکھ کر ان کی ذہانت اور علمیت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔
محمود شیرانی کہتے ہیں کہ اس کے مصنف کا نام ضیاء الدین خسرو ہے نہ کہ امیر خسرو ۔ کیونکہ خالق باری " حفظ اللسان" کا ترجمہ ہے اور وہ حفظ اللسان کا مصنف ضیاء الدین خسرو کو مانتے ہیں۔ اگر ضیاء الدین خسرو کی تصنیف حفظ اللسان کو ہی خالق باری کی اصل صورت مان لیا جائے تو یہ لاعلمی اور بے انتہا حیرت انگیز قرار پائے گی ۔ کوئی ایسی تصنیف جس سے صدیوں استفادہ کیا گیا ہو اور جس کی تقلید میں درجنوں تصنیفات وجود میں آئی ہوں۔ اس کے خالق کو اتنے کم عرصہ میں اس طرح بھلا دیا جائے کہ اس کی تصنیف بھی غلط طور پر کسی اور کے نام منسوب ہو جائے ۔ ان سوالات کی روشنی میں شیرانی کی باتیں اور ان کی تحقیق لوگوں کو متاثر نہیں کرتی ہے۔ پھر بھی چند اعتراضات کے بعد خالق باری کی ترتیب ، اس کی زبان، اشعار کے اوزان اور جابجا الفاظ و معانی اور تلفظ الفاظ کی غلطیوں کی نشاندہی کر کے شیرانی نے اپنے دعوے کو مدلل بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
خالق باری کی تدوین کے ضمن میں شیرانی کی متنی تحقیق و تاریخ کا کام معرکہ آرا ہے۔ انہوں نے خالق باری کے انتساب کے مسائل حل کرنے کے ساتھ اس کے متنی حدود قائم کرنے میں پوری پوری محنت کی ہے۔ حافظ محمود شیرانی نے اردو فارسی زبان وادب کے سینکڑوں موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ہر موضوع پر اتنا نیا اور اچھوتا مواد فراہم کر دیا کہ اس سے ادبی تاریخ مالا مال ہوگئی ہے۔ یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ ایرانیات میں مشرق میں اس پائے کا کوئی اور محقق نظر نہیں آتا ۔ حافظ محمود شیرانی نے فارسی ادب کے اکثر ابتدائی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ فارسی میں ان کا پسندیدہ موضوع فردوسی اور شاہنامہ فردوسی ہے۔ فردوسی پر انہوں نے چار مقالے لکھے ہیں، جو فردوسی پر چار مقالے کے نام سے موسوم ہے۔ پہلا مقالہ شاہنامہ کی پہلی داستان ہے اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ داستان بیرون و منیرہ ہو سب سے پہلی داستان ہے جو منظوم ہوئی۔ اس داستان کے چند سال کے بعد شاہنامہ کا آغاز ہوا جو کئی سال کی طویل مدت میں پائیہ تکمیل کو پہنچا۔ داستان بیرون و منیزہ کی اولیت کے سلسلے میں انہوں نے کئی دلیلیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے آخری اور بڑی محکم دلیل شہادت کلام سے پیش کی ہے اور یہی داخلی شہادت محمود شیرانی کی تحقیق کی جان ہے۔ انہوں نے لکھا ہے که داستان بیژن و منیژه کی زبان بقیہ شاہنامے کی زبان سے متفاوت ہے اور تفاوت تقدمو تاخر زمانی پر دال ہوتا ہے۔ ہجو سلطان محمود غزنوی شیرانی کا دوسرا اہم مقالہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پہلے اشعار ہجو میں ہر شعر کی اصل سے بحث کی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا ماخذ کیا ہے۔ چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہجو کے اکثر اشعار مصنوعی اور جعلی ہیں۔ کچھ اشعار شاہنامہ میں دوسرے موقعوں پر کہے گئے تھے۔ ان کو ایک جگہ پیش کر کے ہجو کی روایت کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہجو کی روایت جب تراشی گئی تو چند ہی اشعار ہجو یہ متعین ہوئے ۔ شیرانی نے ہجو کے اشعار پر تقریبا سو صفحے میں مفصل بحث کی ہے ۔ اس کی بنیاد پر اس مقالہ کو ادبی تحقیق کا شاہکار سمجھا جا سکتا ہے۔
شیرانی نے تیسرے مقالہ میں فردوسی کے مذہب سے بحث کی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ شیعہ تھا اور سلطان محمود کٹر سنی۔ اس لئے فردوسی کو صلہ سے محروم رکھا گیا۔ یہ ایک مسلم حقیقت تھی جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ مگر شیرانی نے بڑی جرات مندی کا ثبوت دے کر اس مسلم حقیقت کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے اس مسئلہ کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ جہاں تک داخلی شہادت کا تعلق ہے اس سے قطعی طور پر نہ اس کو شیعہ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سنی لیکن ان کے اکثر اشعار سے فردوسی کے سنی ہونے کا پتا چلتا ۔ ہے۔ شاہنامہ کے تعلق سے شیرانی کا سب سے اہم کارنامہ مثنوی یوسف زلیخا کے فردوسی کی انتساب کا بطلان ہے۔ فضلاء مغرب کی تحقیق نے اس پر ایسی مہر ثبت کر ر کھی تھی کہ اس بارے میں کسی کو شک کرنے کا موقع نہ تھا۔ دور جدید کے اکثر نقاد مثنوی یوسف زلیخا کو فردوسی کی تصنیف نہیں مانتے۔ یہ آواز سب سے پہلے محمود شیرانی نے اٹھائی اور ایسے محکم دلائل پیش کئے کہ آج تک ان پر کسی قسم کا اضافہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یوسف زلیخا اور شاہنامہ کے کئی سو اشعار پیش کر کے دونوں کے فرق کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے مثنوی یوسف زلیخا سے ایسے الفاظ ، فقرات، محاورات، ترکیبات اور استعارات وغیرہ کی متعدد مثالیں پیش کی ہیں جو فردوسی کے زمانہ میں وجود میں نہیں آئے تھے۔ شیرانی کے اس طریق استدلال سے ان کی تحقیق کا مرتبہ دوسرے محققین سے بلند ہو جاتا ہے۔ شیرانی کا فارسی ادب سے متعلق دوسرا اہم تحقیقی کارنامہ تنقید "شعر العجم " ہے۔ مغربی فضلا کی خدمات کے باوجود فارسی ادب کی اولین مبسوط اور باقاعدہ تاریخ علامہ شبلی کی "شعر انجم " قرار پاتی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر تاریخ ادبیات فارسی نہیں بلکہ تاریخ ایران از روئے ادبیات فارسی ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں جو مقام ” آب حیات ک"و حاصل ہے وہی مقام فارسی ادب کی تاریخ میں ”شعر النجم “ کو حاصل ہے۔ شبلی کو یہ اولیت حاصل ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے فارسی شاعری کو انتقادی نظر سے دیکھا ہے۔ شعر العجم کی تحقیقی خامیوں کو دور کرنے کی غرض سے محمود شیرانی نے تنقید" شعر العجم “ لکھی۔ اس کتاب میں محمود شیرانی نے "شعر العجم " کی تحقیقی خامیاں دکھانے اور ان کی تصحیح کرنے پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ حسب ضرورت تعمیری کام بھی کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ "شعر النجم ، بعض خصوصیات کے اعتبار سے اردو میں منفرد کتاب ہے لیکن اس میں تاریخی کمیاں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ شیرانی نے اس پر بھر پور تنقید کی ہے۔ محمود شیرانی اس کتاب کی امتیازی حیثیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ فارسی نظم کی تاریخ میں اردو زبان کی بے بضاعتی محسوس کر کے علامہ شبلی نے شعر انجم تصنیف کی۔ اس موضوع پر اب تک فارسی اور اردو میں جس قدر کتا بیں لکھی گئی ہیں۔ شعر النجم ان میں بغیر کسی استثناء کے بہترین تالیف مانی جاسکتی ہے ۵ تنقید شعر انجم میں حافظ محمود شیرانی کا فن تحقیق نقطۂ عروج پر پہنچا ہوا ہے۔ محمود شیرانی تاریخ فارسی ادب پر گہری نظر رکھتے تھے اور فارسی زبان کے ارتقاء سے واقفیت رکھتے تھے۔ پر تنقید شعر النجم میں ان کے انداز تحقیق کا جو ہر پوری طرح عیاں ہے۔ داخلی شہادت یا خود شاعر کے کلام سے ثبوت کی فراہمی کے اعتبار سے فارسی کے تمام محققین میں وہ سب سے ممتاز اور نمایاں ہیں۔ تنقید شعر انجم میں شعر انجم کے متعلق ان کا نظریہ یہ ہے کہ علامہ شبلی اس تصنیف کے دوران میں مؤرخانہ و محققانہ فرائض کی نگہداشت سے ایک بڑی حد تک غافل رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ شبلی تاریخ اسلام میں بہتر نظر رکھتے ہوں، لیکن شعرائے عجم کے حالات میں ان کے طاقتور قلم نے بہت لغزشیں کی ہیں۔ اس خاص دائرے میں ان کی معلومات تاریخی نہایت محدود ہے اور نہ تمام سلسلہ شعرا، ان کے دواوین اور تاثر پر کافی عبور ہے ۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ جس طرح تنقید آب حیات مکمل نہ ہو سکی تھی اسی طرح تنقید شعر انجم بھی مکمل نہ ہوسکی۔ یہ عباس مروزی کے تذکرہ سے شروع ہو کر کمال
اسماعیل کے تذکرہ پرختم ہو جاتی ہے۔ تنقید شعر النجم پر تبصرہ کرتے ہوئے مالک رام لکھتے ہیں کہ تنقید شعرا نجم کا ایک ایک صفحہ ان کے مطالعے کی وسعت، اسلامی تاریخ پر عبور، ذہانت اور نکتہ سنجی کا شاہد عادل ہے کے تحقیق کے طریقہ کار میں جو چیزیں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ان میں سے ایک داخلی شواہد بھی ہے۔ شیرانی کی تحریروں میں داخلی شواہد کے اعلی ترین نمونے ملتے ہیں۔ " پرتھی راج راسا میں انہوں نے اسی طریقہ کار یعنی داخلی شواہد سے مدد لے کر اس کی افادیت کو روشن کیا ہے اردو میں تحقیق پہلی بار اس طریق کار سے روشناس ہوئی۔ ان کی تحریروں کو سامنے رکھ کر ان کی تحقیقی روایت اور طریق کار کے دوسرے اجزا کی تفصیلات بہ خوبی معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے پرتھی راج راسا پر جو کام کیا ہے وہ اردو میں تحقیقی طریقہ رسائی کے اعتبار سے ایک یادگار کام ہے، کہا جاتا ہے کہ پرتھوی راج کے ایک درباری چندر بردائی کی تصنیف "راسا" ہے۔ تاریخی اعتبار سے راجپوت خاندانوں کے زمانے اور نسب ناموں کے سلسلے میں وہ ایک نہایت قدیم ماخذ تسلیم کی جاتی ہے۔ جبکہ واقعہ کچھ اور ہی ہے۔ محمود شیرانی نے اس کتاب کے مندرجات کا جائزہ لے کر ان تمام روایتوں اور کھاؤں کو نقل کر دیا ہے جو پرتھی راسا کے مشتملات کا حصہ ہیں۔ ان میں تاریخی حقائق کے ساتھ جو کھلواڑ کی گئی ۔ وہ اپنے طور پر خود ایک مثالی شکل میں سامنے آتی ہے۔ شیرانی سے پہلے بھی راسا کی تاریخی حیثیت پر شبہ کیا جانے لگا تھا۔ شیرانی نے لکھا ہے کہ راسا" کے مرتبین نے تو راسا کے بیانات کے اعتماد پر مسلمان مؤرخین کو مطعون کیا کہ انہوں نے سلطان شہاب الدین کی زندگی کے ایسے تاریک پہلوؤں کو جو اس کے خلاف جاتے تھے قلم انداز کیا ہے۔محمود شیرانی نے راسا کے بیان کردہ واقعات کو غلط قرار دینے اور ان کو من گھڑت ثابت کرنے کے لئے تاریخ و روایت کے تقابلی مطالعہ کو اس طرح پیش کیا کہ اخذ نتائج کی منزل تک خود اس کے قاری کا ذہن بآسانی پہنچ جائے۔
شیرانی نے اصطلاحات اسماء، خطابات اور اسلحہ وغیرہ کے سلسلے میں بھی تاریخی بخشیں چھیڑی ہیں اور ان کی بنیاد پر راسا کے ایک بہت بڑے حصے کو جعلی قرار دیتے ہوئے یہ جتلایا ہے کہ یہ باتیں بہت بعد کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اور چند کوی کی فکر فرمائیوں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں۔ اس کے علاوہ شیرانی کا مقالہ باغ و بہار سے متعلق اور شمس العلماء عبد الغنی کی کتاب پر تبصرہ اور سکہ جات و کتبات پر ان کا کام لائق تحسین ہے۔ اردو کے تمام محققین اور کام کرنے والوں پر نظر ڈالیں تو اس سلسلے میں صرف چار محققین ممتاز نظر آتے ہیں۔ ایک تو سب سے پہلے حافظ محمود شیرانی جو خود بڑے محقق اور تنقید نگار تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد الحق پر نظر پڑتی ہے۔ محققین کے اس صف میں تیسرے آدمی قاضی عبد الودود اور چوتھے امتیاز علی عرشی ہیں۔ جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ہندوستان میں اردو اور فارسی کی نسبت سے حافظ محمود شیرانی کو تحقیق کا معلم اول کہا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے تحقیق کو مستقل موضوع کی حیثیت عطا کی اور اس اعتبار سے وہ روایت ساز تھے۔ ان کی تحقیقی زندگی کا آغاز ۱۹۲۰ء سے ہوتا ہے اور اس کا سلسلہ ۱۹۴۶ء میں ان کی زندگی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تحقیقی مضامین مئی ۱۹۲۰ء سے لکھنا شروع کئے۔ ان کے تین ابتدائی مضامین شاہ نامے کی نظم کے اسباب اور زمانہ ، ہجو سلطان محمود غزنوی اور یوسف زلیخائے فردوسی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ شیرانی کے اعلی تحقیقی مقالے ہیں اور یہیں سے اردو میں حقیقی اور اعلیٰ تحقیقی انداز و اسلوب کا آغاز ہوتا ہے اور معیار و مقصود کی حد بندی ہوتی ہے، تنقید شعر انجم " کے عنوان سے شائع ہونے والے سلسلہ مضامین نے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عقیدت مندی اور شخص پرستی کی وجہ سے شدید رد عمل کا آغاز بھی ہوا۔
ان کی تحریروں میں " داخلی شواہد کا تعین بکثرت ہے۔ ہجو سلطان محمود غزنوی، پرتھی راج راسا ، خالق باری اور قصہ چہار درویش سے متعلق مقالات میں انہوں نے داخلی شواہد سے کام لیا ہے۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے زمین ہموار کی اور ناموافق حالات میں کام کا آغاز کیا ۔ شیرانی کے مختلف مقالوں سے اصول تحقیق اور طریق کار کی تفصیلات مرتب کئے جاسکتے ہیں۔ محمود شیرانی نے اپنی کئی یادگاریں چھوڑی ہیں۔ انہوں نے بہت سے غلط نظریات،بگڑی ہوئی تاریخی حقائق کی درستی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ اردو لسانیات کے میدان میں پنجاب میں اردو ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے تحقیق میں جدید مغربی اصولوں کو رواج دیا ۔ اپنی خدمات سے تحقیقی معیار کو بلند کیا ہے۔ ان کی تنقید شعر انجم اور تنقید آب حیات مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔ تدوین متن میں بھی انہوں نے کام کیا ہے۔ تدوین متن کا کام قیام انگلستان ہی میں شروع کر دیا تھا۔ تدوین متن پر ان کا سب سے پہلا کام ڈاکٹر ہنری محب (Henry Stubbe) کی اسلام کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب تھی۔ ان کا تدوین متن پر دوسرا کام حکیم قدرت اللہ قاسم کا تذکرہ مجموعہ نغز کی تدوین ہے۔ جبکہ تیسری اہم تدوین خالق باری ہے۔ لیکن ان کی اصل دلچسپی تحقیق متن سے تھی۔ انہوں نے بالخصوص مختلف کتابوں کے زمانہ تالیف اور ان کے مؤلفین و مصنفین کا تعین کیا ہے۔ علم عروض میں بلند مقام حاصل کیا ۔ سکہ شناسی ، خطاطی اور کتابت میں ماہر تھے۔مختلف موضوعات پر لکھے گئے ان کے مقالات آٹھ جلدوں میں مرتب ہو چکے ہیں جن میں ے سات جلد میں مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کی ہیں۔ ان جلدوں میں ان کی شائع کی گئی اکثر کتا ہیں اور مقالے آگئے ہیں۔ وہ ایک عظیم محقق اور نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے ۔ مگر ان کی شاعری با قاعدہ شاعری نہیں تھی۔ ہاں ، ٹیپو سلطان جیسی نظموں اور بعض اردو فارسی غزلیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس فن میں بھی اپنا جو ہر دکھا سکتے تھے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں