امجد حیدر آبادی کی حالات زندگی

 امجد حیدر آبادی کا پورا نام ابوالاعظم سید امجد حسین تھا ۔ ان کے والد صوفی سید رحیم علی بن سید کریم حسین ایک متقی اور پر ہیز گار بزرگ تھے۔ انھیں  بیس  بچے پیدا ہوئے تھے لیکن کوئی نہ بچ سکا۔ اکیسویں اولاد امجد تھے جو 6 رجب سن 1303 ھ بروز دوشنبہ (مطابق 1886ء) حیدر آباد میں پیدا ہوئے ۔ جب امجد چالیس دن کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور امجد کی پرورش ان کی والدہ صوفیہ بیگم نے کی ۔ وہ بھی ایک نیک ، مذہبی اور پر پہز گار خاتون تھیں اور اپنے بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی تھیں ۔ چنانچہ ایک بار انھوں نے امجد سے کہا تھا کہ اگر دنیا میں جینا ہے تو کچھ ہو کر جیو ورنہ مر جاؤ۔

ایک اور مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک امیر آدمی پالکی میں سوار امجد کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کہاروں کے ساتھ ایک کارندہ بھی پالکی تھامے دوڑ رہا تھا۔ امجد کی والدہ نے امجد کو یہ منظر دکھا کر پوچھا تم کیا بنا پسند کرو گے؟ امجد نے جواب دیا " پاکی سوار" ۔ والدہ نے کہا ایسی زندگی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب تم علم حاصل کرو، ورنہ تمھیں بھی پالکی کے ساتھ دوڑنا ہوگا ۔ والدہ کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ امجد نے علم حاصل کرنے کے لیے جی جان سے محنت کی ۔ عام رواج کے مطابق امجد کی ابتدائی تعلیم گھر پری ہوئی ۔ پھر انھوں نے حیدرآباد کی مشہور درس گاہ جامعہ نظامیہ میں چھے سال تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان کامیاب کیا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں ان کی شادی شیخ میراں کی لڑکی محبوب النسا بیگم سے ہوئی جن کے بطن سے ایک لڑکی اعظم النسا تولد ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ امجد ابو الاعظم کہلائے جانے لگے۔ شادی کے دو سال بعد امجد بنگلور چلے گئے اور وہاں پیشہ تدریس سے وابستہ ہوئے لیکن جلد ہی حیدر آباد واپس آگئے اور مدرسہ دار العلوم میں استاد مقرر ہو گئے ۔ مدرسہ دارالعلوم میں چند برس تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ صدر محاسبی ( اکاونٹنٹ جنرل) کے دفتر میں ملازم ہو گئے اور ترقی کرتے کرتے مددگار صدر محاسب ( ڈپٹی اکاونٹنٹ جنرل ) کے عہدے پر پہنچ کر پچپن برس کی عمر میں وظیفے پر سبک دوش ہوئے ۔

اسی دوران ایک بھیانک واقعہ رونما ہوا جس نے ان کی زندگی کو رنج والم سے بھر دیا۔ 1908ء میں حیدر آباد کی موسیٰ ندی میں زبردست طغیانی آئی جو اتنی تباہ کن تھی کہ شہر کا ایک بڑا حصہ سیلاب کے نذر ہو گیا ۔ امجد ندی کے قرب و جوار ہی میں رہتے تھے۔ ان کا مکان بھی اس کی زد میں آگیا اور نہ صرف سارا مال و اسباب تباہ ہو گیا بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی والدہ ، بیوی اور 4 سالہ بچی اعظم النسا اس طغیانی کی نذر ہو گئیں اور وہ انھیں بچا نہ سکے۔ اس حادثے نے ان کے ذہن پر بہت برا اثر ڈالا۔ کئی سال تک وہ تجرد کی زندگی بسر کرتے رہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں اور اپنے بھرے پڑے خاندان کی بربادی کا دردناک حال انھوں نے جمال امجد کے عنوان سے اپنی خود نوشت سوانح میں لکھا ہے۔ اس سیلاب کے بارے میں ان کی ایک رباعی ہے :


سیلاب میں جسم زار گویا خس تھا

غرقاب محیط غم کس و ناکس تھا

اتنے دریا میں بھی نہ ڈوبا امجد

غیرت والے کو ایک چلو بس تھا

ایک اور رباعی میں وہ اپنے دل کا حال یوں بیان کرتے ہیں:


کس وقت دل غم زدہ مغموم نہیں

رونے دھونے کی کس گھڑی دھوم نہیں

قبر مادر تو خیر بن ہی نہ سکی

لیکن گور پدر بھی معلوم نہیں


امجد نے علامہ سید نادرالدین سے فلسفہ و منطق پڑھی تھی اور علامہ انھیں بہت چاہتے تھے۔ امجد کے ذہنی کرب کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اپنی بیٹی جمال سلمی کو امجد کے عقد میں دے دیا جس کے بعد امجد کی زندگی میں ایک ٹہراؤ آیا ۔ 1928 ھ میں امجد اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرنے گئے ۔ رنج امجد کے عنوان سے انھوں نے ایک سفر نامہ بھی لکھا۔ طواف کعبہ کے دوران انھوں نے ایک رباعی کہی ۔ وہ رہائی ہے :


رستہ تر اسر سے ملے کیا ہے ہم نے

سب کچھ تری رہ میں دے دیا ہے ہم نے

مل لیں گے کبھی تجھ سے بھی انشاء اللہ

گھر تو تیرا دیکھ ہی لیا ہے ہم نے

حج سے واپسی کے ایک سال بعد ہی ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ 1930ء میں امجد نے تیسری شادی سید ابراہیم حسینی کی دختر قمر النسا بیگم سے کی جو امجد کی وفات کے بعد بھی بقید حیات رہیں۔ مختصرسی علالت کے بعد امجد نے 29 مارچ 1961 ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ درگاہ شاہ خاموش کے احاطے میں دوسری اہلیہ جمال سلمی کے پہلو میں تدفین ہوئی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام