غزل کیا ہے

غزل اردو ادب کی سب سے مشہور و مقبول صنف ہے۔ اردو ادب کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے جس صنف کی طرف خیال جاتا ہے وہ غزل ہے۔ اپنی شیرینی ، حلاوت، سوز و گداز ، رچاؤ، توازن اور فکر وفن کے باعث اردو غزل ایک عرصے سے کافر صنف سخن کی حیثیت سے بارگاہ سے لے کر خانقاہ تک اپنا سکہ جماتی آئی ہے اور مشاعروں کی صفیں الٹنا اس کا ادنی سا کرشمہ رہا ہے۔ قوالی اور بزم موسیقی میں غزل کا رنگ خوب جمتا ہے۔ اردو کی مقبولیت میں غزل نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان میں غیر اردو داں طبقہ اردو زبان کو غزل کی معرفت سے جانتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے غزل کو اردو شاعری کی آبرو قرار دیا ہے۔ غزل نے ہر دور اور ہر زمانے کے تقاضوں کا ساتھ دیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی "عورتوں سے گفتگو کرنا یا عورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہے۔ لفظ غزل غزالہ سے مشتق ہے۔ غزالہ کے معنی ہرن کے ہیں۔ تو بیچ یہ ہے کہ جب ایک شکاری ہرن کا تعاقب کرتے ہوئے اس کی طرف تیر پھینکتا ہے تو وہ تیر ہرن کے کمر میں پیوست ہو جاتا ہے اور زخمی ہرن آہ و کراہ کے ساتھ اپنی معصوم نگاہوں سے ظالم شکاری کی طرف مڑ کر دیکھتی ہے ۔ اس وقت ہرن کے آنکھوں میں جو در دو کسک اور مظلومیت ہے اس پوری کیفیت کو غزل سے منسوب کیا گیا ہے۔ اصطلاح میں غزل شاعری کی ایک صنف کا نام ہے جو ایک مخصوص طرز میں لکھی جاتی ہے۔ جس میں شاعر کا معشوق یا اپنے محبوب کے ساتھ بات چیت یا ان کے ساتھ حسین صحبتوں کا ذکر یا عورتوں کے عشق و محبت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ شاعری میں غزل کو وصال و فراق کے مضامین کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا ہے غزل کی حسن و عشق کے ساتھ وابستگی بے حد اہم ہے۔ بقول آل احمد سرور : غزل بہر حال زخمی غزال کی آیا تیر نیم کش یا محبوب سے باتیں کرنے کا نام ہے۔ یعنی یہ عشقیہ اور غنائی شاعری ہے۔ لیکن یہ عشق حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور مجازی بھی ۔ خدا سے بھی محبوب سے بھی کسی عقیدے یا کسی مسلک سے بھی یعنی مسئلہ نظارے کا نہیں نظر کا ہے۔ لیکن باوجود اس کے غزل میں تمام مضامین اختصار و اجمال ، نرم و ملائم لہجے میں، جمال آفریں اور پر سوز نشاط آمیز کیفیات اور داخلی تجربے کے ساتھ پر تاثر انداز میں ایک خاص خارجی بیت میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اس صنف سخن میں زبان و بیان کی لطافت و نزاکت اہمیت کی حامل ہے۔ ہر لطیف جذبہ اس کا موضوع سخن ہے اسی وجہ سے یہ ایک ہمہ گیر صنف سخن سمجھی جاتی ہے۔ زندگی کے ہر حسین جذبے کی یہ عکاس ہے اور ہر نوع کے مضامین کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

غزل اشعار کے مجموعے کا نام ہے۔ شعر کے معنی جانا یا کسی چیز سے واقف ہوتا ہے۔ عام طور پر شعر سے مراد جانی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ شعر کو بیت بھی کہتے ہیں۔ شعر کے دو حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک حصے کو مصرع کہتے ہیں۔ شعر کے لیے دو مصروں کا ہونا لازمی ہے۔ ویسے شعر کی کوئی مخصوص تعریف نہیں جسے حرف آخر کہا جا سکے لیکن علامہ شبلی کے نظریے شعر کو یہاں پیش کیا جاتا ہے کہ یہ شعر کی ایک جامع تعریف ہے۔ علامہ شبلی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو دوقو تیں عطا کی ہیں۔ ایک سوچنے کی جسے ادراک کہتے ہیں۔ دوسری محسوس کرنے کی جسے احساس کہتے ہیں ۔ یہ ادراک اور احساس جب لفظوں کے لباس میں نمودار ہوتا ہے تو شعر کہلاتا ہے۔ شبلی مزید کہتے ہیں کہ :

جو جذبات یا احساسات الفاظ کے ذریعے سے ادا ہو وہ شعر ہیں اور چوں کہ یہ الفاظ سامعین کے جذبات پر بھی اثر کرتے ہیں یعنی سننے والوں پر بھی وہی اثر طاری ہوتا ہے جو صاحب جذبہ کے دل پر طاری ہوا تھا۔ اس لیے شعر کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ جو کلام انسانی جذبات کو برا فیختہ کرے اور ان کو تحریک میں لائے وہ شعر ہے"

(اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ, ڈاکٹر منبل نگار ہیں (281-280))


اچھے شعر کے لیے چند بنیادی باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جیسے شعر کی بندش چست ہو، یعنی اس میں کوئی غیر ضروری یا کمزور یا معنی کے لیے نا مناسب لفظ نہ ہو۔ خیال بندی ہو۔ خیال بندی کے تحت شعر میں نے مضمون پیدا کیے جاتے ہیں یا پرانے مضامین کے نئے پہلو تلاش کرنے ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت مشکل کام ہے اس لیے کہ اس کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ شعر میں روانی ہو، یہ مکن ہو سکتا ہے کہ کوئی شعر موزوں ہو، لیکن اس میں روانی نہ ہو یا کم ہو ۔ قافیے کے ساتھ اگر ردیف ہو تو قافیے اور ردیف کا باہم مربوط ہونا اور ردیف کا قافیے کے معنی قائم کرنے میں کارگر ہونا ، مخاص اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ شعر مربوط ہو یعنی اس کے دونوں مصرعے مل کر مکمل خیال کو پیش کرنا چاہیے۔ بیان کی صفائی ہو یعنی مضمون ایسا نہ ہو، یا اسے اس طرح نہ بیان کیا جائے کہ اس کو سمجھنے، میں محنت اور مشکل ہو اور جب اسے سمجھ لیں تو محسوس ہو کہ یہ ساری محنت بیکار گئی۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام