داستان کی تعریف اور فن
داستان اردو افسانوی ادب کی سب سے قدیم صنف ہے۔ واقعات کو قوت متخیلہ کے سہارے بیان کرنے ہی کو فسانہ گوئی کہتے ہیں۔ اگر چہ فسانہ کے لغوی معنی جھوٹی اور فرضی کہانی کے ہیں لیکن ہر فسانے کے پیچھے کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ ہر واقعہ بیان ہوتے ہوئے کہانی بن جاتا ہے۔ کہانی اصناف ادب کی کئی قسموں میں منقسم ہے۔ داستان قصۂ حکایت ناول اور مختصر افسانہ ۔ سب کہانی ہی کی مختلف شکلیں ہیں ۔ ہر ایک کے اندر کوئی کہانی یا کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے داستان کہانی کی قدیم اصناف میں سے ایک ہے۔
داستان کی روایت ان چھوٹی چھوٹی حکایتوں اور روایتوں سے جڑی ہوئی ہے جن کا جنم انسانی تہذیب کے ساتھ ہوا۔ انسان کی یہ فطری خواہش اور معاشرتی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے آلام و مصائب سے دور کسی فردوس میں رہ کر تمام شادمانیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اور اپنے فرصت کے لمحات میں دل و دماغ کی راحت کے لیے کوئی ذریعہ پیدا کرے۔ داستان اس کے لیے تفریح اور دل بہلانے کا ذریعہ بن گئی غالب نے ایک دیباچہ میں لکھا ہے:
"داستان طرازی منجملہ فنون سخن ہے بیچ یہ ہے کہ دل بہلانے کے لیے اچھا فن ہے ۔“
در اصل داستان ایسی ذہنی آسودگی کا نام ہے جو پریشانیوں کے احساس کو ختم کر کے نیند کی پُرسکون وادی میں پہنچا کر حسین خوابوں کے جھرو کے کھول دیتی ہے۔ داستان فرضی اور فرسودہ کہانیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ کہانی کی طویل اور پیچیدہ مصنف کو داستان کہا جاتا ہے۔ کہانی قصہ در قصہ ہو کر داستان بنتی ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد کا کہنا ہے:
"داستان کہانی کی طویل اور پیچیدہ بھاری بھر کم صورت ہے ۔"
( فن داستان گوئی ، صفحہ نمبر 1 )
داستان بنیادی طور پر سنے سنانے یعنی بیان کا فن ہے۔ داستانیں تحریری شکل میں آنے سے قبل سنائی جاتی تھیں ۔ داستان گوئی کی گزشتہ صدیوں میں محفلیں آراستہ ہوتی تھیں، داستان گوداستان بیان کرتا تھا۔ داستان اس ماحول کی پیداوار ہے جہاں لوگوں کے پاس فرصت اور اطمینان کی افراط تھی، غم روزگار سے بے نیاز تھے فکر آخرت سے آزاد تھے۔ اس لیے اپنی تفریح کا سامان داستانوں سے فراہم کرتے تھے۔ داستان گو واقعات کو اپنے تخیلات سے اس حد تک دلچسپ بنا دیتے تھے کہ سامعین حیرت و استعجاب کی فضا میں غرق ہو جاتے تھے۔ داستان اور داستان گو کی کامیابی اسی میں تھی کہ وہ سامعین کی دلچسپی اور توجہ کو قائم رکھے وہ داستان میں ایسے نا قابل یقین واقعات کو شامل کرتا تھا جو سامعین کے عالم خیال میں بھی نہ آئے ہوں ۔ قصہ میں حسن و عشق کی خوش نمائیوں، خیر و شر کی لڑائیوں اور مافوق الفطرت عناصر کو شامل کر کے حیرت و استعجاب کی فضا پیدا کر کے پیش کرنے کا نام داستان ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں