مثنوی کی روایت دکن۔مئں / عادل شاہی دور میں مثنوی نگاری
عادل شاہی خاندان کا بانی یوسف عادل خاں ایک ترک سردار تھا، جس نے بہمنی سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد 1490ء میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا۔ عادل شاہی سلطنت کا پایہ تخت بیجا پور تھا۔ عادل شاہی خاندان کے نو حکمرانوں نے 1686ء تک تقریباً دو سو برس حکومت کی۔ عادل شاہی حکمران نہایت اولوالعزم، رعایا پرور، فیاض، شعر و ادب کے شائق اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ عادل شاہوں نے نئے نئے شہر اور قصبات آباد کیے۔ مضبوط قلعے، عالی شان محلات اور خوبصورت مساجد تعمیر کروائیں ۔ باغات لگوائے۔ شاعروں، مصوروں موسیقاروں اور معماروں کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے عہد میں بیجا پور تہذیب و تمدن کا مرکز بن گیا۔ عادل شاہوں نے دکنی زبان اور دکنی شاعری کی بڑی سر پرستی کی۔ ان کے دور میں متعدد چھوٹے بڑے شاعر پیدا ہوئے، جنہوں نے دکنی زبان میں سینکڑوں مثنویاں لکھیں۔ اس دور میں دکنی مثنوی کی روایت اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ بیجاپور کی مثنویوں میں موضوعات کا تنوع پایا جاتا ہے۔ صوفیانہ مثنویوں کے علاوہ اس دور میں عشقه رزمی تاریخی اور اخلاقی مثنویاں ھی لکھی گئیں۔ ذیل میں عادل شاہی دور کے اہم مثنوی نگارشعرا اوران کی مثنویوں کا مطالعہ پیش ...