اشاعتیں

اگست, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مثنوی کی روایت دکن۔مئں / عادل شاہی دور میں مثنوی نگاری

عادل شاہی خاندان کا بانی یوسف عادل خاں ایک ترک سردار تھا، جس نے بہمنی سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد 1490ء میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا۔ عادل شاہی سلطنت کا پایہ تخت بیجا پور تھا۔ عادل شاہی خاندان کے نو حکمرانوں نے 1686ء تک تقریباً دو سو برس حکومت کی۔ عادل شاہی حکمران نہایت اولوالعزم، رعایا پرور، فیاض، شعر و ادب کے شائق اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ عادل شاہوں نے نئے نئے شہر اور قصبات آباد کیے۔ مضبوط قلعے، عالی شان محلات اور خوبصورت مساجد تعمیر کروائیں ۔ باغات لگوائے۔ شاعروں، مصوروں موسیقاروں اور معماروں کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے عہد میں بیجا پور تہذیب و تمدن کا مرکز بن گیا۔ عادل شاہوں نے دکنی زبان اور دکنی شاعری کی بڑی سر پرستی کی۔ ان کے دور میں متعدد چھوٹے بڑے شاعر پیدا ہوئے، جنہوں نے دکنی زبان میں سینکڑوں مثنویاں لکھیں۔ اس دور میں دکنی مثنوی کی روایت اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ بیجاپور کی مثنویوں میں موضوعات کا تنوع پایا جاتا ہے۔ صوفیانہ مثنویوں کے علاوہ اس دور میں عشقه رزمی تاریخی اور اخلاقی مثنویاں ھی لکھی گئیں۔ ذیل میں عادل شاہی دور کے اہم مثنوی نگارشعرا اوران کی مثنویوں کا مطالعہ پیش ...

مثنوی کی روایت دکن میں / بہمنی دور میں مثنوی کا آغاز

 بہمنی سلطنت کا شمار تاریخ ہند کی اہم سلطنتوں میں ہوتا۔   ہے۔ اس سلطنت کا بانی علا الدین حسن بہن تھا، جس نے 1347 میں دکن میں خود مختار یمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی ۔ 1347 سے 1527 تک اس خاندان کے اٹھارہ سلاطین نے کوئی پونے دو سو برس سے زائد مدت تک دکن پر حکومت کی ۔ اپنے عروج کے دور میں بہمنی سلطنت قوت و اقتدار شان و شوکت ، دولت و خوش حالی اور علوم وفنون کی ترقی میں اپنی مثال آپ تھی۔ اس خاندان کے اکثر سلاطین بڑے قابل اور علم دوست واقع ہوئے تھے۔ ان کے دربار عر ، شعرا، ادبا ، مورخین ، حکما اور دیگر ارباب کمال سے بھرے رہتے تھے۔ بہمنی سلاطین نے وکن میں نئی تہذیبی روایت کو ترقی دی اور نئی ادبی ولسانی روایات کی بنیاد رکھی۔ ان حکمرانوں نے شمال کے مقابلے میں اپنی انفرادیت اور امتیازی حیثیت گوام نے کے لیے دکنی روایات خصوصا دکنی زبان کی سر پرستی کی ۔ چنانچہ دکنی زبان میں تخلیق ادب کے اولین نمونے بہمنی دور ہی میں ملتے ہیں۔ اردو شاعری کی اہم صنف "مثنوی کا آغاز یمنی دوری میں ہوا۔ ذیل میں ہم یعنی دور کی مثنویوں کا مطالعہ کریں گے۔ نظامی : نظامی کا اصل نام فخر دین تھا۔ دکن کے متعدد اہم شعرا کی...

داستان کا فن

 داستان اردو کی قدیم افسانوی ادب کی ایک صنف  ہے۔ داستان کو کہانی کی طویل اور پیچیدہ صنف کہا جاتا ہے، کہانی قصہ در قصہ ہوکر داستان بنتی ہے۔ داستان کے فن کا بنیادی عنصر اس کی طوالت ہے۔ داستان گو ایک کہانی میں بہت سی کہانیاں شامل کر کے داستان کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ سب کہانیاں ایک ہی کہانی کا قصہ معلوم ہوتی ہیں ۔ طوالت کے سبب داستان میں کوئی مربوط پلاٹ نہیں ہوتا ۔ اس کے پلاٹ کو دوحصوں میں تقسیم کیا یک سادہ اور دوسرا پیچید سادہ پلاٹ کا مطلب ہے کہانی سیدھے سادے انداز میں بیان کر دی جائے۔ اس کے برعکس پیچیدہ پلاٹ میں قصہ ایک وسیع دائرے میں پھیل کر کہانی کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس پلاٹ میں بہت سی ضمنی کہانیاں شامل ہوتی ہیں ۔ بیشتر داستانوں کے پلاٹ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ داستانوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مافوق الفطرت عناصر کو اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ مافوق الفطرت کی داستان میں شمولیت سے داستان نه صرف دلچسپ ہوتی ہے بلکہ حیرت و استعجاب کی فضا بھی بناتی ہے۔ جن، پری، دیو، بھوت پریت اور طلسمات کی وجہ سے سننے یا پڑھنے والوں میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ یوں بھ...

اردو میں مضمون نگاری کا ارتقاء

  اردو میں مضمون نگاری کا آغاز دہلی کالج کے ہفتہ واری رسالے " قران السعدین سے ہوا۔ 1845 میں الواس اسپرگر Alios) (Sparenger کی سربراہی میں اس ہفتہ واری رسالے کو جاری کیا گیا۔ بلی کالج کے طلب کو مختلف موضوعات دیے جاتے اور وہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہفتہ واری بالتصویر رسالے کے لیے مضامین لکھتے۔ اس میں شائع ہونے والے زیادہ تر موضوعات کا تعلق سائنس اور تاریخ سے ہوتا تھا لیکن دھیرے دھیرے اس کے موضوعات میں تنوع آتا گیا اور نئے نئے موضوعات پر مضامین قلم بند کیے جانے لگے۔ اس طرح اہل قلم نے اردو ادب میں مضمون نگاری کی روایت کی داغ بیل ڈالی۔ مضمون نگاری کی روایت کی داغ بیل ڈالنے والوں میں دہلی کالج کے نامور استاد ماسٹر رام چندر کا نام بہت اہم اور نمایاں ہے۔ انھوں نے سائنسی، ادبی اور سماجی مضامین قلم بند کیے ۔ اردو مضمون نگاری کی تاریخ میں ان کی سر پرستی اور ادارت میں شائع ہونے والے دور سالوں ” فوائد الناظرین اور محبت ہند کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ماسٹر رام چندر نے 1845 میں فوائد الناظرین کا اجرا کیا ۔ اس رسالے میں سائنس ، عالمی تاریخ، آرٹ، آثار قدیمہ فن تعمیر، حیاتیات، نباتیات اور طبعیات کے ع...

درخواست کسے کہتے ہیں ؟

درخواست  کے لغوی معنی التماس یا گذارش کے ہیں۔ درخواست کو عرضی بھی کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے Application کہتے ہیں۔ سوال کرنا سی آرزو یا تمنا کا اظہار بھی درخواست ہے۔ درخواست نویسی سے مراد اپنی خواہشات یا ضروریات کو تحریری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچانے کا عمل ہے ۔ درخواست کی زبان اور لب واجبہ آپ کی ضرورت یا خواہش کی شدت کا سامان ہوتا ہے۔ یہی لب ولہجہ آپ کی شخصیت کی شناخت کرواتا ہے۔ یعنی درخواست سے نہ صرف آپ کی ضرورت یا خواہش کا اظہار ہوتا ہے بلکہ آپ کی شخصیت کے کچھ پہلو بھی آشکار ہوتے ہیں۔ درخواست نویسی کی ضرورت اور اہمیت ہر دور میں رہی ہے۔ جب تک انسان کی خواہشات اور ضروریات باقی رہیں گی تب تک درخواست نویسی کا عمل جاری رہے گا۔ آپ کو ایسے کئی مواقع ملیں گے جب آپ درخواست تحریر کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ فرض کیجیے آپ کے گھر کے قریب کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے۔ جو آہستہ آہستہ سڑک پر پھیل رہا ہے۔ گلی کے کئے اور دوسرے جانور اس میں اپنی غذا تلاش کرنے کے لیے اسے مزید پھیلا رہے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس سے بڑی تکلیف ہوگی ۔ کچھ لوگ اس گندگی کو دیکھتے رہیں گے اور محکمہ بلدیہ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار ک...

تفہیم غالب شعر نمبر 14

 پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا۔                     دل جگر تشنۂ فریاد آیا۔                        (زمانه تحریر: ۱۸۲۱ء)۔                              اس شعر میں کوئی بار یکی نہیں، لیکن بعض لوگوں کو جگر تشنہ کی ترکیب پر کچھ تردد ہوا ہے ۔ کسی صاحب نے علامہ کالی داس گپتا رضا کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ جگر تشنہ کوئی مستند ترکیب نہیں، کیوں کہ کسی فارسی لغت میں اس کا اندراج نہیں ملتا۔ علامہ کالی داس گپتا رضا محتاط اور ذی علم محقق تھے، توقع نہیں کہ انھوں نے ایسی کوئی غیر ذمہ دارانہ بات کہی ہو۔ بہر حال واقعہ یہ ہے کہ جگر تشنہ بمعنی ”مشتاق کا اندراج مولوی محمد لاد کی موید الفضلا" میں موجود ہے۔ یہ لغت ۱۵۱۹ء میں مرتب ہوا اور فارسی کے مستند لغات میں اس کا شمار ہے۔ پس یہ دعویٰ کہ جگر تشنہ کسی فارسی لغت میں نہیں ملنا، غلط ثابت ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جگر تشنہ کوئی انوکھی ترکیب نہیں ، یہ تشنہ جگر کی تقلیب ہے اور...

تفہیم غالب شعر نمبر 7

ستائش گ ر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا۔          وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا ۔          زمانه تحریر: بعد ۱۸۲۶، قبل ۱۸۲۸ء)۔                            سطحی نظر سے دیکھا جائے تو طبا طبائی کا خیال بالکل درست ہے کہ اس شعر میں کوئی معنوی خوبی نہیں ، صرف حسن بیان اور بدیع کا معاملہ ہے۔ ( یہ بات اور ہے کہ حسن بیان در اصل حسن معنی ہی ہوتا ہے، لیکن اس بحث کا یہاں موقع نہیں ) اس شعر میں حسن بیان اور بدیع بھی معمولی درجے کے نہیں ہیں۔ بہشت کی تحقیر اسی کے مناسب لفظ یعنی گلدستہ سے کرنا اور پھر اس طرح کرنا کہ تحقیر کی تحقیر رہے اور وہی چیز باعث زینت بھی ٹھہرے ( گلدستے کو طاق پر سجاتے ہیں) کوئی نہی کھیل نہیں ہے۔ یہ اعلا درجے کے طباعی Wit ہے جس پر اچھے سے اچھے شاعر بھی انگشت بدنداں ہو جائیں۔ پھر دیکھیے کہ بے خودی کے ساتھ طاق نسیاں کا استعمال رعایت در رعایت کی انوکھی شکل پیدا کرتا ہے۔ جب خود کو بھلا دیا ہے تو جنت جیسے معمولی گلدستے کو کیوں نہ بھلا دیں گے؟ حسرت م...

تفہیم غالب شعر نمبر 66

جہاں میں ہوں غم و شادی بہم ہمیں کیا کام  دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں پہلے مصرعے میں نون غنہ اور میم کی آوازوں کے اجتماع نے اس کی غنائیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں تک سوال شرح کا ہے تو اس شعر کی بہت عمدہ شرح طباطبائی دے تو اس شعر کی بہت نے بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” مصنف نے یہ تازگی پیدا کی ہے کہ غم و شادی کے بہم ہونے پر حسرت ظاہر کی ہے۔ کہتے ہیں ہمیں کیا کام، یعنی ہم تو محروم ہیں، ہمیں تو کبھی ایسی خوشی بھی حاصل نہیں ہوئی جو غم سے متصل ہو۔ اور شادی مخلوط بہ غم کی حسرت کرنے سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ شاعر کو انتہائی غم زدگی ہے کہ اس پیچ و ناکارہ خوشی کی تمنا کرتا ہے۔ لیکن ایک پہلو اور بھی ہے۔ غم و شادی کا بہم ہونا قانون فطرت ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إِنْ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا ، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً (بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے)۔ اگر غم ہوگا تو خوشی بھی ہوگی اور خوشی ہوگی تو غم بھی ہوگا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے دل میں غم ہی غم ہے۔ دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں، انتہائی بلیغ عبارت ہے۔ اگر یہ کہا ہوتا کہ ریہ کہا ہوتا کہ خ...