اشاعتیں

مارچ, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

"(ع) اسم مذکر علم بیان میں اس مجاز یا صنعت بیانیہ سے مراد ہے، جس میں سبب سے مسبب ظرف سے مظروف کل سے جزو، لازم سے ملزوم ، ذکر سے صاحب ذکر مراد لے سکتے ہیں ۔" (فرہنگ آصفیہ، ،جلد سوم،2057)  مجاز ( ع ) لغوی معنی راہ ، مذکر حقیقت کے برعکس ، جو حقیقت نہ ہو ۔ وہ کلمہ جو اپنے حقیقی معنی کے خلاف مستعمل ہو مگر اس کے حقیقی معنی متروک نہ ہو گئے ہوں ۔ مجاز مرسل (ف) مذکر علم بیان میں اس مجاز سے مراد ہے۔ جس میں سبب سے مسبب ظرف سے مظروف، کل سے جزو وغیرہ مراد لے سکتے ہیں۔ مجازی اور حقیقی معنی میں تشبیہ کا علاقہ ہے تو استعارہ کہیں گے اور اگر تشبیہ کے سوا کوئی اور علاقہ ہو تو مجاز مرسل - ( نور اللغات جلد چهارم ، صفحہ 495) مندرجہ بالا تعریفات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنی کے علاوہ مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اور حقیقی ومجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اسے " مجاز مرسل" کہتے ہیں۔ تشبیہ کے علاوہ کسی بھی لفظ کے حقیقی و مجازی معنوں میں جو دوسرے علاقے ہو سکتے ہیں وہ درج ذیل ہیں: جزو اور کل کا علاقہ ؛ اگر کسی ایک لفظ کو بطور جزو بول کر کل مرا...

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ (ع) ہم مذکر بغوی معنی مانگ لینا علم زبان کی اصطلاح میں مجاز کی ایک قسم ہے یعنی جب مضاف الیہ کو مضاف سے کچھ تشبیہ کا لگاؤ ہو تو اس مضاف کو استعارہ کہتے ہیں ۔ جیسے اصل اب اور سر وقہ ، یہاں لب کا محل سے اور مرد کا قد سے استعارہ ہے۔ اگر مشبہ کو چھوڑ کر مشبہ بہ کا ذکر کر کے مشبہ سے مراد لیں تو اصل بمعنی اب اور سرو بمعنی قدر ہوگا۔ اس صورت میں استعارے کی پوری پوری تعریف صادق آئے گی ۔" (فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحہ 170) استعاره ( ع بالکسر وکس سوم ، کسی چیز کا عاریتہً مانگنا ،وہ علم بیان کی اصطلاح میں حقیقی اور مجازی معنوں کے درمیان تشبیہ کا علاقہ ہوتا۔ یعنی حقیقی معنوں کا لباس عاریہ مانگ کر مجازی معنوں کو پہنانا ) ذکر اردو میں بیشتر دوسرے معنی میں مستعمل ہے۔“ (نور اللغات، جلد اول، صفحہ 334) اوپر کی تعریفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ استعارہ سے مراد وہ صورت ہے جب مشبہ بہ " کو عین مشبہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ مثلا اگر یہ کہا جائے کہ " احمد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہ تشبیہ ہے، لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ احمد شیر ہے ۔ تو یہ استعارہ ہے کیونکہ یہاں مشبہ بہ شیر کو مشبہ احمد قرار دیا گیا ہے۔ آپ اس...

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

تشبیہ ، ع ، اسم مونث ۔ مشابہت تمثیل ( اصطلاح معانی میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ کسی صفت میں مشابہ کرنے کو کہتے ہیں۔ ) اس میں وجہ شبہ ظاہر ہو یا نہ ہو۔ جسے تشبیہ دیں اسے مشبہ اور جس سے تشبیہ دیں اسے مشبہ بہ کہتے ہیں۔ مشبہ اور مشبہ بہ کوطرفین تشبیہ ، اس صفت کو وجہ شبہ اور جو حرف اس پر دلالت کرے اسے حرف شبہ کہتے ہیں ۔" (فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحه (615)  تشبیہ (ع) - شبہ مادہ) مونٹ، ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند ٹھہرانا جیسے کسی بہادر کو کہتا کہ اپنے زمانے کا رستم ہے۔ جسے تشبیہ دیتے ہیں اسے مشتبہ اور جس کو تشبیہ دیتے ہیں اس کو مشبہ بہ اور جس امر میں تشبیہ دیتے ہیں اسے وجہ شبہ کہتے ہیں۔" ( نور اللغات ، جلد دوم، صفحہ 251) تشبیہ کی مندرجہ بالا تعریفات پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک شئے یا شخص کو کسی دوسری شے یا شخص سے کسی مماثلت کی بناء پر ہم پلہ یا اس کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم یہ کہیں کہ حامد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہاں پر حامد کو اس کی بہادری کے سبب شیر سے تشبیہ دی جارہی ہے جو کہ ایک طاقت ور اور بہادر جانور سمجھا جاتا ہے۔  تشبیہ کے ارکان ...

اسلوبیاتی تنقید

اسلوبیات کی اصطلاح اسلوب سے بنی ہے۔ اسلوب کی اصطلاح عہد قدیم سے مستعمل رہی ہے۔ جس کے لیے طرز ادا طرز زبان و بیان انداز بیان وغیرہ جیسے الفاظ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا ادب میں اسلوب الفاظ کے طریق استعمال کا نام ہے۔ جس کے تجزیے سے ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ مصنف کن معنوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ اسلوب کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا گیا ہے۔ کسی خاص شاعر یا ادیب ہی کا کوئی منفرد اسلوب نہیں ہوتا جیسے غالب یا میر امن کا اسلوب کسی خاص رحجان یا حلقے یا گروہ یا عہد کا بھی اسلوب ہوتا ہے جیسے کلاسیکی اسلوب رومانوی اسلوب علامتی اسلوب ترقی پسند اسلوب وغیرہ۔ اسلوبیات اسلوب کے روایتی مطالعے سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ اسلوبیات کا اصرار اظہار کے مختلف اور متنوع طریقوں کے ہمہ جہت مطالعے پر ہے۔ یہ صرف ادبی متون کے تجزیے اور مطالعے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق غیر ادبی متون کے اسالیب پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلوبیات یا اسلوبیاتی تنقید ادب کا ایک تکنیکی اور تجزیاتی بلکہ سائنسی نہج پر مطالعہ کرتی ہے۔ ادبی اسلوبیات کا مقصد واضح اور نمایاں طور پر زبان اور فنی تفاعل کے مابین رشتے کی توضیح ہے۔ اگرچہ اسل...

مارکسی تنقید

اردو میں مارکسی تنقید  ترقی پسند تنقید کا پہلا دور دوسرے تنقیدی نقطہ نظر کی طرح جدید تنقیدی رحجانات میں مارکسی تنقید کو بھی بہت اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر وہ ناقدین جوترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے مارکسزم کو سیاسی اور اقتصادی حل کے طور پر مانتے تھے ۔ ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں مارکسی نقطہ نظر کے تحت ادبی اقدار کے تعین کی کوشش کی۔ ان میں بعض ناقدین ایک زمانے میں انتہا پسندی کا شکار بھی ہوئے اور قدیم و کلا سیکی ادب کی تفہیم یا ادب میں پائے جانے والے تہذیبی رویوں پر انہوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ جسے نہ عام لوگوں نے پسند کیا اور نہ خود مارکسی حلقوں میں پذیرائی ہوئی۔ بلکہ سخت گیر رویے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ان نظریات کی بار بار وضاحت کی گئی اور اس کے بہتر ملی گوشوں کو واضح کر کے اس کی صحیح شکل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اُردو ناقدین میں عام طور پر جن ناقدین کا نام مارکسی تنقید کے سلسلے میں زیادہ نمایاں ہے یا انہیں ایک نظریہ ساز کی اہمیت حاصل ہے اس میں اختر حسین رائے پوری، سجاد ظہیر ڈاکٹر عبدالعلیم، مجنوں گورکھپوری اور احتشام حسین کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ یہ فہرست اس سے طویل بھی ہو س...

علم بیان

 علم بیان سے مراد وہ علم ہے جو ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم ایک ہی مضمون اور مطلب کو مختلف اور زیادہ واضح طریقوں سے کس طرح ادا کرسکیں ۔ اس علم سے واقفیت کے نتیجے میں کوئی بھی انسان واضح اور موثر تحریر و تقریر کا ہنر سکھ لیتا ہے۔ ذیل میں علم بیان کی مختلف تعریفات ملاحظہ ہوں:  بیان (ع) اسم مذکر (1) بلغوی معنی صاف بولنا سخن روشن ، واضح ، آشکارا (۲) تقریر و گفتگو ۔۔۔ وہ علم جس میں تشبیہ ، مجاز، استعارہ، کنایہ وغیرہ کی مدد سے ایک معنی کوکئی طریقے سے ادا کر سکیں ۔  فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحہ (465)  بیان (ع ، فصاحت زبان آوری ظاہر ( مذکر 1 قول مقولہ، تقریر، گفتگو ۔۔۔۔ وہ علم جس میں تشبیہہ ، مجاز استعارے، کنایہ وغیرہ کی مدد سے ایک معنی کو کئی طریق سے ادا کرتے ہیں ۔  (نوراللغات،جلد اول، صفحه 765) علم بیان کی مندرجہ بالا تعریفات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ایک بات یا مضمون کو بہتر سے بہتر طریقے سے ادا کرنے اور اسے لفظی و معنوی خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا ہنر ہمیں علم بیان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ علم بیان نہیں سکھاتا ہے کہ ہم کسی بھی لفظ کے حقیقی یا مجازی معنی سے کس طرح...

ہیتی تنقید

ہیئی تنقید کا تصور سب سے قدیم تصور ہے جس کے ابتدائی نقوش نہ صرف یونان قدیم کی تنقید میں ملتے ہیں بلکہ سنسکرت جمالیات اور عربی و فارسی شعریات کی روشنی میں جن تفہیمات سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے ان میں ہیئت ہی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ عربی فارسی اور اردو شعرا کے تذکروں اور ادبی معرکوں میں بھی بیت ی و مرکوزِ نظر رکھ جاتا تھا۔ ہیئت کے تحت صنف کے روایتی تصور 'لفظ' اور معنی کے رشتے، عروض، آہنگ اور بیان پر خصوصی بحث کی جاتی تھی۔ مضامین شعر کی روایت سے بھی انحراف کی اجازت نہ تھی ۔ اگر چہ اخلاقی مضامین کے محل اور معنویت کو بھی بحث کا موضوع بنایا جاتا تھا لیکن اس کے مقابلے پر لفظ کے استعمال کی اہمیت زیادہ تھی کہ شعر کے خوب وزشت کا سارا دار و مدار لفظ ہی پر تھا۔ بیت پسندی کو ایک نیا ڈسپلن روسی ہیئت پسندوں نے عطا کیا۔ روسی ہیئت پسندی کی تحریک کا آغاز 1915 ء میں ۔ ماسکو نگو شک مرکل (Mascow Linguistic Circle) کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس سرکل کا روح رواں رومن جیکب سن تھا، جو خود لسانیات کا ماہر تھا اور جس نے ادبی تنقید کی تاریخ میں پہلی بار لسانی مطالعے کو خاص اہمیت دی تھی ۔ ماسکولنگوسٹک سرکل کے علاوہ ...

جمالیاتی تنقید

 اگر جمالیات کا فقط لغوی معنی پیش نظر ہو تو معاملہ زیادہ دشوار نہیں ہے اور اکثر نقادوں کے یہاں اس کی نشان دہی کی جاسکتی ہے لیکن مخصوص شعبہ علم کی حیثیت سے اگر ” جمالیات کی تعریف پیش نظر ہواور اس دبستان کی فکری بنیادیں  بھی محلوظ ہوں تو اردوکی حد تک اس تنقیدی طریقہ کار سے ہمارے بہت کم نقادوں نے کام لیا ہے۔ جمالیات کی اصل جمال کا فلسفہ یا علم ہے۔ یعنی حسن کی تلاش اور اس کی نشان دہی اس طریقہ تنقید کی اصل ہے، اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مطالعہ متن کے اس طریقہ کار کو جس میں حسن کی تلاش اورحسن کے متعلقات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو، جمالیاتی تنقید کہا جائے گا۔ یعنی متن کے تشکیلی عناصر ، اس کے سماجی محرکات، یا فن کار کے شعوری اور لاشعوری نہاں خانوں تک رسائی ، اس طریقہ تنقید کا مقصود ہر گز نہیں ہوتا ۔ یہ طریقہ تنقید فن پارے کی اخلاقی اور افادی قدروں سے بھی سروکار نہیں رکھتا۔ بلکہ تنقید کے اس ابستان کا تنہا مقصود، حسن کی تلاش اور اس کے متعلقات کا تجزیہ ہوتا ہے۔ اور اسی بنیاد پر فن پارہ اچھا یا یہ اقرار پاتا ہے۔ یہاں تک تو بات سادہ اور آسان تھی لیکن جب ہم جمالیات کو ایک نظام فکر اور علم ...

رومانی تنقید

 اردو زبان میں رومانیت کی تحریک اتنی باضابطہ اورمنصوبہ بند طریقے سے نہیں شروع ہوئی جیسی جرمنی اور فرانس میں ہوئی ۔ اس لیے اُردو کی حد تک تنقید کے اس دبستان کے اصول بہت مستحکم نہیں ہیں۔ چنانچہ شعر و ادب کی طرح تنقید میں بھی رومانیت کے عناصر تو ضرور ملتے ہیں لیکن کسی نقاد کو خالص رومانی نقاد کہنا بہت دشوار ہے ۔ دوسری وجہ اس صورت حال کی یہ بھی ہے کہ اُردو کے نقادوں نے کسی بھی نظام فکر کی پابندی اس شدت سے نہیں کی کہ دوسرے نظام فکر یا دبستان سے خود کو یکسر علاحدہ رکھیں ۔ چنانچہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک نقاد کی مختلف تحریروں میں، سماجی، تاریخی، نفسیاتی اور بیتی تنقید کے عناصر بیک وقت ساتھ ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بالخصوص تاثراتی رومانی اور جمالیاتی تنقید کے نمائندہ نقاد تو تقریبا ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں۔ تنقید کے ان تینوں دبستانوں کی حدیں کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتی ہیں ۔ جذباتی کیفیت اور حسن پرستی کے عناصر ان تینوں دبستانوں کو ایک ہی رشتے میں پرو دیتے ہیں۔ اکثر نقادوں کے نام بھی ان تینوں دبستانوں میں مشترک نظر آتے ہیں۔ عبد الرحمن بجنوری، مہدی افادی، مجنوں گورکھپوری ( تنقیدی ح...

تاثراتی تنقید

 تنقید کے اس دبستان میں مرکزی حیثیت قاری، نقاد کو حاصل ہوتی ہے۔نقاد بھی اصلا ایک قاری ہے۔ باشعور اور صاحب ذوق قاری ۔ وہ فن پارے کو پڑھ کر فقط لطف اندوزی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ فن پارے کے اسرار کوکھولتا اور لطف اندوزی کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہفن پارے میں خیال افروزی کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ تنقید نگارفن پارے کو فقط اچھا یا خراب کہنے کے بجائے، چند اصولوں کی روشنی میں اس کے اسباب پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ اس طرح تنقید، قاری کی ذہنی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتی ہے۔ اس کے ذوق کو نکھارتی اور ادبی بصیرت کو فروغ دیتی ہے۔ تنقید فن پارے اور قاری کے درمیان ایک خوشگوار با معنی رابطہ ہے۔            لیکن جیسا کہ مذکور ہوا، کوئی بھی تنقیدی دبستان فن پارے کے مختلف پہلوؤں میں سے کسی ایک پر اصرار کرتا ہے۔ چنا نچہ تاثراتی تنقید بھی فن پارے کا تجزیہ کرنے ، قاری کے لیے اس کی تفہیم کی سطح کو بلند کرنے یا اس کی تہوں کو کھولنے کے بجائے نقاد کے ذاتی تاثرات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ تنقید قاری کے تاثرات کو زبان و بیان کے ذریعے دوبارہ تخلیق کرتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، نقاد اصل ف...

سودا کی حالات زندگی

 اٹھارہویں صدی میں میر تقی میر کے جن معاصرین کو اردو شاعری کے میدان میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے، ان میں مرزا محمد رفیع سودا کا نام سب سے نمایاں اور بلند ہے۔ سودا کے اس بلند مرتبے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ کئی تذکرہ نگاروں نے میر اور سودا کو ہم پلہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر غزل اور مثنوی میں میر کو سودا پر فوقیت ہے تو قصیدہ اور ہجو کے میدان میں سودا میر سے بہت آگے ہیں۔ بہر حال اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سودا کا شاعرانہ مرتبہ اتنا بن لند ہے کہ انہیں اردو شاعری کی روایت میں بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ سودا کا نام مرزامحمد رفیع اور تخلص سودا تھا۔ وہ 1713 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ سودا کے والد مرزا محمد شفیع دہلی کے باشندے تھے اور تجارت ان کا پیشہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سودا کے اجداد کا تعلق کابل سے تھا جو سپہ گری کے پیشے سے وابستہ تھے۔ سودا کے والد تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے اور دہلی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ سودا نے جب آنکھ کھولی تو اس وقت دہلی مختلف علوم وفنون کا ایسا مرکز تھا جہاں نہ صرف ملک کے دوسرے شہروں سے اہل ذوق آتے رہے تھے، بلکہ بیرون ملک سے بھی علم وفن سے تعلق رکھنے والوں کی آمد کا ...