حافظ محمود شیرانی کی پیدائش ۷۵ اکتوبر ۱۸۸۰ ء کو ٹونک میں ہوئی اور ٹونک ہی میں حافظ محمود شیرانی اپنے وقت کے ایک عالم اور فاضل تھے۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں آج بھی ان کا شمار صف اول کے ناقدین و محققین میں ہوتا ہے وہ زندہ رہے تو تاریخی فروری ۱۹۴۶ء میں ان کا انتقال ہوا۔ کرداروں کو زندہ کرتے رہے اور مرے تو تاریخی کرداران کو زندہ کر رہے ہیں۔ محمود شیرانی ایک ایسے اسکالر تھے ، جن کی اسکالر شپ کا دائرہ نہ صرف اردو اور فارسی بلکہ تاریخ اور دوسرے مضامین جیسے فلسفہ وغیرہ سے بھی متعلق تھا۔ وہ ان عالموں میں تھے جنہوں نے اردو میں بہت ٹھوس کام کئے شیرانی کی تاریخی اہمیت یہی ہے کہ انہوں نے ادبی تحقیق کے میدان میں بت شکنی کا آغاز کیا۔ شبلی اچھے ادیب ہیں، مسلم شعری ذوق رکھتے ہیں مگر محمد حسین آزاد شاندار انشاء پرواز ہیں، اردو ادب کے محسن ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد پروفیسر بڑی ڈگریوں کے مالک ہیں لیکن زبان و ادب کے رموز سے واقف نہیں اس لئے ان کی تحقیقات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ محمود شیرانی بت شکنی کرتے رہے اور لکھنے والوں کو سکھاتے رہے کہ اور محتاط بننے جستجو میں مزید گہرائی کے لئے علم میں ...