اشاعتیں

اکتوبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کتاب دکن میں اردو از نصرالدین ہاشمی پر مشقی سوالات

  Loading…

حافظ محمود شیرانی کی تحقیق نگاری

حافظ محمود شیرانی کی پیدائش ۷۵ اکتوبر ۱۸۸۰ ء کو ٹونک میں ہوئی اور ٹونک ہی میں  حافظ محمود شیرانی اپنے وقت کے ایک عالم اور فاضل تھے۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں آج بھی ان کا شمار صف اول کے ناقدین و محققین میں ہوتا ہے وہ زندہ رہے تو تاریخی فروری ۱۹۴۶ء میں ان کا انتقال ہوا۔ کرداروں کو زندہ کرتے رہے اور مرے تو تاریخی کرداران کو زندہ کر رہے ہیں۔ محمود شیرانی ایک ایسے اسکالر تھے ، جن کی اسکالر شپ کا دائرہ نہ صرف اردو اور فارسی بلکہ تاریخ اور دوسرے مضامین جیسے فلسفہ وغیرہ سے بھی متعلق تھا۔ وہ ان عالموں میں تھے جنہوں نے اردو میں بہت ٹھوس کام کئے شیرانی کی تاریخی اہمیت یہی ہے کہ انہوں نے ادبی تحقیق کے میدان میں بت شکنی کا آغاز کیا۔ شبلی اچھے ادیب ہیں، مسلم شعری ذوق رکھتے ہیں مگر محمد حسین آزاد شاندار انشاء پرواز ہیں، اردو ادب کے محسن ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد پروفیسر بڑی ڈگریوں کے مالک ہیں لیکن زبان و ادب کے رموز سے واقف نہیں اس لئے ان کی تحقیقات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ محمود شیرانی بت شکنی کرتے رہے اور لکھنے والوں کو سکھاتے رہے کہ اور محتاط بننے جستجو میں مزید گہرائی کے لئے علم میں ...

طنز و مزاح کی نوعیت اور اہمیت

طنز و ادب کی دلچسپ معنویت سے بھر پور اور امتیازی صنف ہے ۔ طنز کو ایسے آلے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جس کے ذریعہ کسی زوال آمادہ معاشرہ، ادارہ یا فرد کے مضحک پہلوؤں کو ادبی اور معقول پیرایہ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ طنز نگار کو دبی نقاد نہ کہا جائے اس کے تمدنی نقاد ہونے میں دورا میں نہیں ہو سکتیں ۔ طنز کے لیے ماحول کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک مخصوص ماحول کے بغیر طنز کا وجود ناممکن ہے۔ لہذا ایسے ہی معاشرہ میں پھلتا پھولتا ہے جس میں نہ صرف ذہنی کلچر موجود ہو بلکہ جس معاشرہ کے افراد حقیقت پسندانہ نقطہ نظر بھی رکھتے ہوں ۔ طنز کا بڑا معاشرتی فائدہ یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں آمرانہ اقتدار اور ظلم وستم کا دور دورہ ہو اور راست تنقید کی گنجائش نہ ہو، ایک اچھا طنز نگار ایسے ماحول میں بھی اپنے فن کے ذریعہ اس پر عائد ذمہ داریوں کو بہ حسن و خوبی پوری کرتا ہے۔ اس لیے میریڈتھ نے طنز نگار کو اخلاقی محتسب قرار دیا ہے۔ حکومت کے قوانین اور مذہبی قیود جہاں اپنی شکست تسلیم کر لیتے ہیں وہاں طنز فتح مند ہوتا ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ طنز نظریاتی نہیں عملی ہوتا ہے ۔ موثر طنز کے لیے طنز نگار کا مخلص اور متوازن ذہن کا حام...

علامہ شبلی نعمانی کی تحقیق نگاری

 ان کی تعلیم کا سلسلہ اصلا اس وقت شروع ہوا جب وہ مولانا فاروق چریا کوئی کی خدمت میں عربی علوم سیکھنے کے لئے حاضر ہوئے ۔ درسیات کی تکمیل کے بعد ادب ، فقہ اور حدیث وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے رامپور، سہارنپور، لکھنو اور لاہور کا سفر اختیار کیا۔ شبلی جب اپنے چھوٹے بھائی سے ملنے کے لئے علی گڑھ گئے تو وہاں سرسید سے بھی ملاقات ہوئی ۔ سرسید شبلی کی ذہانت اور علمی لیاقت سے بے حد متاثر تھے۔ سرسید کے کہنے پر شبلی نے علی گڑھ میں ملازمت کر لی۔ علی گڑھ میں رہ کر شبلی نے بہت کچھ سیکھا۔ شبلی ایک عالم ، مفکر، مؤرخ، ادیب اور ناقد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ولادت ایک خوشحال زمیندار گھرانے میں مئی ۱۸۵۷ء میں اعظم گڑھ کے ایک معروف قصبہ بندول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مولوی شکر اللہ سے حاصل کرنے کے بعد شبلی نے عدالت میں نقل نویسی سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ انہیں اس ملازمت - سے طبعی مناسبت نہیں تھی۔ اسی زمانے میں شبلی شعر و شاعری کر رہے تھے۔ شبلی عربی اور فارسی دونوں زبانوں کے عالم ہیں۔ ان کا شمار ان ادبیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت سی تصانیف چھوڑی ہیں اور مختلف اصناف پر قلم جنبانی کی ہے۔ انہوں ...

رشید احمد صدیقی کی حیات

  رشید احمد صدیقی 25 دسمبر 1894 کو قصبہ بیریا ضلع بلیا اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبدالقدیر تھا۔ رشید صدیقی بچپن میں زیادہ بیمار رہا کرتے تھے اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم پر کم توجہ دی گئی۔ ان کی دینی تعلیم تو گھر پر ہوئی لیکن اردو اور حساب وغیرہ کے لیے قصبہ کے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ 1908ء میں انہوں نے جونپور میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔ جونپور میں انہوں نے انٹرنس کا امتحان کامیاب کیا۔ انٹرنس کے بعد انہوں نے لگ بھگ ایک سال کلرکی کی اور پھر علی گڑھ کا رخ کیا اور ایم ۔ اے او کالج میں فرسٹ ایر میں داخلہ لیا۔ رشید صدیقی کے دور طالب علمی کے احباب میں ڈاکٹر ذاکر حسین سابق صدر جمہوریہ ہند، شفیق الرحمن قدوائی، اور اقبال سہیل لائق ذکر ہیں۔ رشید صدیقی نے طالب علمی کی بھر پور زندگی گزاری 1919 ء میں بی۔ اے اور 1921ء میں انہوں نے ایم۔ اے کیا اور 1922ء میں اُردو مولوی کی حیثیت سے ملازم ہوئے ۔ 1926ء میں لکچرر کی حیثیت سے ان کا تقر عمل میں آیا۔ 1935ء میں وہ ریڈر بنے 1954 ء میں پروفیسر اور یکم مئی 1958 ء کو یونی ورسٹی کی ملازمت سے ان کی سبکدوشی عمل میں آئی۔ رشید صدیقی کی شادی 1...

مرزا ہادی رسوا کی حیات

حيات مرزا محمد ہادی رسوا 1858ء میں لکھنو کے ایک محلہ کوچہ آفریں خاں میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد مرزا محمد تقی آصف الدولہ کی فوج میں ممتاز عہدے پر فائز تھے ۔ مرزا محمد تقی فارسی زبان و ادب کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ فقہ اور علم نجوم سے دلچسپی تھی ۔ مرزا ہادی رسوا کے نانا نواب احمد علی خاں کا سلسلۂ نسب آصف الدولہ کے نائب حسن رضا خاں سے ملتا ہے۔ نواب احمد علی خاں کی بیوی یعنی مرزا رسوا کی نانی طباطبائی خاندان سے تھیں ۔ رسوا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ پندرہ سولہ سال کی عمر میں والد مرزا محمد تقی کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ جاگیر اور جائداد رسوا کی ناتجربہ کاری اور کم سنی کی وجہ سے رشتہ داروں نے ہڑپ کرلی۔ کچھ دنوں کے لیے اس یتیم و یسیر بچے کی سرپرستی خالہ اور ماموں نے قبول کی چند ہی دنوں بعد یہ پتے بھی ہوا دینے لگے۔ خالہ اور ماموں کے مظالم اتنے بڑھے کہ تنگ آکر مرزا رسوا نے ننیال چھوڑ دیا لکھنؤ چلے گئے ۔ وہاں اپنے والد مرزا محمد تقی کے ایک دوست شیخ حیدر بخش کے یہاں قیام کیا۔ حیدر بخش اعلیٰ درجے کے خطاط تھے۔ دستخط اور دستاویز بنانے میں ماہر تھے۔ دھوکہ دہی کی پاداش میں انہیں طویل...

1857 کے بعد اردو اخبار

ابتدائی اُردو اخبارات کی شکل وصورت ان کی تعداد اشاعت اور خبروں کی نوعیت اور حصول کے سلسلے میں یاد رہے کہ یہ روزانہ اخبارات نہیں تھے بلکہ پندرہ روزہ ہفتہ روزہ یا زیادہ سے زیادہ سہ روزہ اخبارات ہوا کرتے تھے۔ سائز کے اعتبار سے بھی آج کے روز ناموں کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہوتے تھے۔ خبروں کے لیے یہ اخبارات زیادہ تر انگریزی اخبارات پر انحصار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دیسی ریاستوں کی جانب سے نکلنے والے قلمی اخبارات سے بھی مواد حاصل کرتے تھے۔ کچھ اچھے اخبارات کے نامہ نگار بھی تھے۔ مثلاً مولوی محمد باقر نے اپنے دہلی اردو اخبار کے لیے کچھ نامہ نگار مقرر کر رکھے تھے۔ اس زمانے میں بڑی بڑی سرخیوں کا رواج نہیں تھا۔ ادارے بھی اس وقت نہیں لکھے جاتے تھے۔ کبھی کبھی خبر کے ساتھ ہلکا پھلکا تبصرہ کر دیا جاتا تھا۔ اس کو اس زمانے کا ایڈیٹوریل تصور کیا جاسکتا ہے۔ اخباروں کی اشاعت بہت کم تھی۔ مثال کے طور پر دہلی اردو اخبار کی صرف 69 کاپیاں چھتی تھیں۔ لاہور کے اخبار 'کوہ نور' کی سب سے زیادہ یعنی تقریباً ساڑھے تین سو کاپیاں چھتی تھیں گویا کہ یہ اپنے وقت کا بہت بڑا اخبار تھا۔ اشاعت کی اس کمی کا سبب تعلیم کی ک...

اُردو اخبار کا آغاز

جام جہاں نما اُردو کا اولین مطبوعہ اخبار ہے جو 27 مارچ 1822ء کو کلکتہ سے جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ایڈٹر منشی سدا سکھ مرزا پوری اور مالک ہری ہردت تھے اور یہ ولیم ہوپکنس پیئرس کے مشن پریس سے چھپتا تھا۔ یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا ۔ شروع میں 11 X8 انیچ تقطیع میں چھ صفحات پر مشتمل تھا۔ اخبار کے ہر صفحے پر دوکالم اور ہر کالم میں عام طور پر 22 سطر میں ہوا کرتی تھیں ۔ یہ اخبار فارسی ٹائپ میں چھپتا تھا۔ اخبار میں مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی خبروں کے علاوہ جدید علوم وفنون سے متعلق مضامین اور خبریں شائع ہوتی تھیں ۔ اس کے علاوہ شعر و شاعری کو بھی جگہ دی جاتی تھی۔ انیسویں صدی کے نصف حصے یا پہلی جنگ آزادی 1857 ء سے قبل تک ہندستان کے مختلف شہروں سے متعدد اخبارات جاری ہو چکے تھے۔ چنانچہ 1834 ء میں بمبئی سے آئینہ سکندری اردو میں جاری ہوا ۔ حالانکہ فارسی زبان میں یہ اخبار 26 اپریل 1822ء ہی سے جاری تھا۔ یہ ایک نیم سرکاری اخبار تھا اور بمبئی کے گورنر کی ایما پر جاری ہوا تھا۔ یہ اخبار ٹائپ میں چھپتا تھا۔ انیسوی صدی کی تیسری دہائی میں جو سب سے بڑا اخبار سامنے آیا وہ ہے دہلی اُردو اخبار جسے اُردو کے مشہور...

امجد حیدر آبادی کی حالات زندگی

 امجد حیدر آبادی کا پورا نام ابوالاعظم سید امجد حسین تھا ۔ ان کے والد صوفی سید رحیم علی بن سید کریم حسین ایک متقی اور پر ہیز گار بزرگ تھے۔ انھیں  بیس  بچے پیدا ہوئے تھے لیکن کوئی نہ بچ سکا۔ اکیسویں اولاد امجد تھے جو 6 رجب سن 1303 ھ بروز دوشنبہ (مطابق 1886ء) حیدر آباد میں پیدا ہوئے ۔ جب امجد چالیس دن کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور امجد کی پرورش ان کی والدہ صوفیہ بیگم نے کی ۔ وہ بھی ایک نیک ، مذہبی اور پر پہز گار خاتون تھیں اور اپنے بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی تھیں ۔ چنانچہ ایک بار انھوں نے امجد سے کہا تھا کہ اگر دنیا میں جینا ہے تو کچھ ہو کر جیو ورنہ مر جاؤ۔ ایک اور مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک امیر آدمی پالکی میں سوار امجد کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کہاروں کے ساتھ ایک کارندہ بھی پالکی تھامے دوڑ رہا تھا۔ امجد کی والدہ نے امجد کو یہ منظر دکھا کر پوچھا تم کیا بنا پسند کرو گے؟ امجد نے جواب دیا " پاکی سوار" ۔ والدہ نے کہا ایسی زندگی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب تم علم حاصل کرو، ورنہ تمھیں بھی پالکی کے ساتھ دوڑنا ہوگا ۔ والدہ کی تربیت ہی کا نتیجہ تھ...

اکبر الہ آبادی کی حیات

اکبر کا پورا نام اکبر حسین تھا۔ ان کا تعلق یوپی کے معزز اور خوش حال خاندان سے تھا۔ ان کے دادا بنگال میں صوبہ دار تھے۔ ان کے والد کا نام تفضل حسین تھا۔ اکبر حسین 16 نومبر 1846ء میں یہ مقام موضع بارہ ضلع الہ آباد پیدا ہوئے۔ گھر کا ماحول بہت مذہبی تھا۔ باپ سماع کی محفلوں میں جاتے مجالس عزا میں بھی شرکت کرتے تھے ۔ ماں بھی بہت مذہبی اور صوم و صلواۃ کی پابند تھیں ۔ زمانے کے دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ عربی فارسی اردو انگریزی اور ریاضی کی ابتدائی کتا بیں انھوں نے گھر ہی میں پڑھی تھیں ۔ ریاضی سے بہت دلچپسی تھی۔ پھر مشن اسکول میں داخل ہوئے ۔ ایک سال ہوا تھا کہ 1857 کا ہنگامہ ہو گیا اور ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ مگر یہ گھر پر برابر پڑھتے رہے۔ عربی فارسی کے ساتھ انگریزی کا بھی مطالعہ کیا۔ ادب، فلسفہ اور مذہب کی کتابیں پڑھتے رہے۔ 1857ء کے بعد عام مسلمانوں کی طرح اکبر کے خاندان کو بھی سخت  مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے اکبرکو ملازمت کی فکر ہوئی ۔ انھوں نے اپنی ملازمت کی ابتدا عرضی نویسی سے کی ۔ محلے کے ایک وکیل سے محرری سکھتے رہے پھر ان کو سر رشتہ داری کی نوک...

اردو انشائیہ اور اردو کے اہم انشائیہ نگار پر مشقی سوالات حصہ سوم

  Loading…