اشاعتیں

فروری, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قصیدے کی اجزائے ترکیبی

 یہ بات دھیان دینے کی ہے کہ قصیدے کے اجزائے ترکیبی کا تعلق بھی دراصل قصیدے کے فن سے ہے۔ لیکن یہ اجزا چونکہ الگ سے اپنی خاص اہمیت رکھتے ہیں، اور ان کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کر ناضروری ہے اس لیے انہیں یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ قصیدے کی ہیئت کا تعلق بنیادی طور پر قصیدے میں قافیے کے نظام اور قصیدے کی خارجی صورت سے ہے۔ لیکن جب ہم قصیدے کی فارسی اور اردو کی طویل روایت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں قصیدوں میں کچھ ایسی خصوصیات نظر آتی ہیں جن سے اس صنف کی خاص پہچان قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری روایت میں فارسی اور اردو کے قصیدوں میں عام طور سے پابندی کی جاتی رہی ہیں کہ ہماری روایت میں قصیدے کے لیے کچھ مخصوص اجزا متعین کیے گئے ہیں ۔ یہ اجزا قصیدے سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ انہیں صنف قصیدہ کی پہچان سمجھا گیا۔ چونکہ قصیدہ انہیں اجزا سے مرکب ہوتا ہے اس لیے انہیں اجزائے ترکیبی کہا جاتا ہے۔ قصیدے کے اجزائے ترکیبی حسب ذیل ہیں : -  تشبیب -  گریز  مدح  دعا  تشبیب قصیدے کا پہلا جز ہے جہاں سے قصیدہ شروع ہوتا ہے تشبیب کو نسیب بھی کہتے ہیں۔ فارسی اور اردو کے زیادہ تر ق...

قصیدہ کی تعریف اور اس کا فن

 قصیدہ اصل میں عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی مغز غلیظ و سطبر کے ہیں، یعنی ایسا گودا جو گاڑھا اور دل دار ہو لیکن اصطلاح میں قصیدہ اس مسلسل اور نسبتاً طویل نظم کو کہتے ہیں ، جس میں کسی کی مدح یا ہجو بیان کی گئی ہو۔ قصیدے میں وعظ ونصیحت کے علاوہ دنیا اور زمانے کی شکایت وغیرہ کے مضامین بھی بیان کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن ان موضوعات کے باوجود قصیدے کی عام شناخت مدحیہ شاعری کی حیثیت سے قائم اور مشہور ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہماری زبان میں جب کسی شخص کی بہت بڑھا چڑھا کر تعریف و توصیف کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس شخص کا قصیدہ پڑھا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے قصیدے کو عام طور پر مدحیہ شاعری کی ایک مشہور صنف کی حیثیت سے ہی جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ :قصیدے کا فن   خارجی ہیئت کے لحاظ سے قصیدہ اور غزل میں بڑی حد تک یکسانیت ہے۔ جس طرح غزل کے پہلے شعر یعنی مطلع کے دونوں مصرعے اور بعد کے تمام اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، بالکل وہی صورت قصیدے میں بھی ہوتی ہے۔ البتہ قافیے کے لحاظ سے قصیدے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے درمیان میں بھی مزید مطلعے لائے جاسکتے ہیں، جب کہ غزل کی صنف میں ایسا ممکن ...

شمالی ہند میں جدید مثنوی نگاری

 جدید مثنوی کے ذیل میں ان مثنوی نگار شعرا کا شمار ہوتا ہے جنہوں نے اردو شاعری میں ایک نئے تخلیقی رجحان کی داغ بیل ڈالی تھی۔ ان شعرا میں حالی ، آزاد اور شبلی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اردو کا نشاۃ الثانیہ جن شاعروں کی اصلاحی کوششوں سے عبارت ہے ان میں آزاد، حالی اور شبلی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے شاعری کو انسانی زندگی سے قریب تر کرنے کی شعوری کوشش کی اور شعر و شاعری میں لذت کوشی اور عیش پرستی کے بجائے زندگی کے ان حقائق و مسائل کی ترجمانی کوترجیح دی جن سے انسانی زندگی مختلف سطحوں پر دو چارتھی ۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے جدید مثنوی کا نقش اول حالی کی 1876 کی اس تخلیق کو قرار دیا ہے جو انگریزی سے ماخوذ تھی اور اس کا عنوان جواں مردی کا کام تھا۔ جدید مثنوی کے تحت آزاد، حالی اور شبلی کی مثنوی نگاری پر گفتگو آئندہ سطور میں پیش کی جاتی ہے۔ الطاف حسین حالی مولانا الطاف حسین حالی کا شمار اردو کے صف اول کے نظم نگار شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کی وہ نظمیں ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے اخلاقی، تمدنی اور تہذیبی مسائل کو پیش کیا۔ حالی جدت پسند طبیعت کے م...

سودا کی مثنوی نگاری

 مرزا محمد رفیع سودا اردو کے ممتاز شاعر گزرے ہیں ۔ سودا 1710 میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 1781 میں لکھنو میں ہوا۔ انہیں اردو قصیدہ نگاری میں عظیم مقام حاصل ہوا تاہم غزل مرثیہ اور مثنوی میں بھی ان کی تخلیقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سودا جس طرح کا شعری مذاق رکھتے تھے وہ قصیدے کے لیے بہت موزوں تھا۔ انہوں نے اس صنف میں اردو شاعری کو عربی و فارسی کے ممتاز قصیدہ نگاروں کے ہم پلہ بنانے کی سعی کی اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہے۔ سودا کے کلیات میں مثنویوں کا ذکر پروفیسر سید عقیل نے اپنے تحقیقی مقالے شمالی ہند میں اردو مثنوی کا ارتقا میں کیاہے۔ یہ مثنویاں موضوعاتی اعتبار سے کئی زمروں میں شمار ہوتی ہیں۔ چونکہ قصیدہ نگاری سے ان کو فطری رقبت تھی اس لیے مثنوی میں بھی انہوں نے مدحیہ اور ہجویہ موضوعات پر متعدد مثنویاں لکھیں۔ اس کے علاوہ دیگر متفرق موضوعات پر بھی انہوں نے مثنویاں لکھیں۔ ذیل میں سودا کی مختلف موضوعات کے تحت لکھی گئی مثنویوں کے عنوانات درج کیے جاتے ہیں۔ - مدحیہ مثنویاں   تعریف شکار آصف الدوله، تعریف بادشاہ شاہ عالم وزیر آصف الدوله، تعریف چاہ مومن...

شمالی ہند میں جدید اردو مثنوی نگاری

 جدید مثنوی کے ذیل میں ان مثنوی نگار شعرا کا شمار ہوتا ہے جنہوں نے اردو شاعری میں ایک نئے تخلیقی رجحان کی داغ بیل ڈالی تھی۔ ان شعرا میں حالی ، آزاد اور شبلی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اردو کا نشاۃ الثانیہ جن شاعروں کی اصلاحی کوششوں سے عبارت ہے ان میں آزاد، حالی اور شبلی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے شاعری کو انسانی زندگی سے قریب تر کرنے کی شعوری کوشش کی اور شعر و شاعری میں لذت کوشی اور عیش پرستی کے بجائے زندگی کے ان حقائق و مسائل کی ترجمانی کوترجیح دی جن سے انسانی زندگی مختلف سطحوں پر دو چارتھی ۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے جدید مثنوی کا نقش اول حالی کی 1876 کی اس تخلیق کو قرار دیا ہے جو انگریزی سے ماخوذ تھی اور اس کا عنوان جواں مردی کا کام تھا۔ جدید مثنوی کے تحت آزاد، حالی اور شبلی کی مثنوی نگاری پر گفتگو آئندہ سطور میں پیش کی جاتی ہے۔  الطاف حسین حالی مولانا الطاف حسین حالی کا شمار اردو کے صف اول کے نظم نگار شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کی وہ نظمیں ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے اخلاقی، تمدنی اور تہذیبی مسائل کو پیش کیا۔ حالی جدت پسند طبیع...

مرزا دبیر کی شاعری میں روایتی پیش کش

 مرزا کو روایتیں نظم کرنے کا شوق تھا۔ چنانچہ جبیب ابن مظاہر کے حال والے مرثیے میں جو روایت نظم کی ہے اس کے       استعمال کی اولیت کا اظہار کیا ہے۔ بند ملاحظہ ہو: ہر چند کہ بے حصہ ہے مضمون روایت آگے نہ کسی کو ہوئی پر ایسی ہدایت واللہ نہ ہے بجل نہ کینہ نہ شکایت  منظور ہے پر زور طبیعت کی رعایت کہتے ہیں کہ گنجائش احوال نہیں ہے ہر ماہ اگر کہیے تو اشکال نہیں ہے ہل اتیٰ ، لافتیٰ ، انم،قل کفٰی ، یہ چاروں لفظ حضرت علی کے فضائل کی تلمیحات ہیں۔ ان تلمیحات کا استعمال ایک بند میں مرزا صاحب کے پاس ملاحظہ کیجیے۔ اہل عطا میں تاج سربل اتیٰ ہیں اغیار لاف زن ہیں، شہ لافتیٰ ہیں یہ خورشید انور فلک انما میں یہ  کافی ہے یہ شرف کہ شہ قل کفیٰ ہیں یہ ممتاز کو خلیل رسولان دیں میں ہیں کاشف ہے لو کشف یہ زیادہ یقیں میں ہیں مرزاد بیر کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ طوالت کے دل دادہ ہیں لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں اختصار بھی مہارت کے ساتھ ان کے کلام میں جگہ پاتا ہے۔ روز عاشور کے بیان میں حضرت علی اکبر کی صبح کی اذان سے امام حسین کی شہادت تک کا بیان مختصر ترین انداز میں صفا ذیل ب...

مثنوی کی تعریف

 اضاف سخن میں مثنوی نظم کی وہ شکل ہے جس کا ہرشعر باعتبار ردیف و قافیہ جدا گانہ اور باعتبار مضمون ایک دوسرے سے مربوط ہوتا ہے۔ عموماً مثنوی میں قافیہ ہی ہوتا ہے۔ اور یہ قافیہ بھی ہرشعر کے بعد بدلتا رہتا ہے۔ لیکن پوری مثنوی ایک ہی بحر میں ہوتی ہے ۔ دو ہم قافیہ الفاظ کے التزام کی وجہ سے اس کا نام مثنوی قرار پایا اس لئے مثنوی کے معنی " دو دو کیا گیا" کے ہیں۔ اشعار میں تسلسل کا ہونا ضروری ہے اشعار کا یہ باہمی ربط وتسلسل مثنوی کی بنیادی خصوصیت ہے۔ مثنوی قصیدے کے بر عکس نہ صرف اشعار کی تعداد کی پابندی سے بالا تر ہے بلکہ غزل کی طرح ہر شعر میں ردیف و قافیہ کی قید سے مبرا ہے۔ بقول نواب امداد امام اثر " ممکن ہے کہ چار شعر کی مثنوی ہو یا چار لاکھ کی "  مضامین کے لحاظ سے جس طرح غزل ، مرثیہ، قصیدہ، واسوخت، ریختی ایک دوسرے سے امتیاز رکھتے ہیں اس طرح بہ لحاظ موضوع مثنوی میں بھی امتیاز پایا جاتا ہے۔ قدما کے نزدیک مثنوی کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس میں خارجی یا بیانیہ اور اُس کے متعلقات کی مرقع کشی کی جائے اور دوسری وہ جس میں داخلی غنائی یا جذبے کی شاعری ہو جہاں خارجی یا بیانیہ شاعری کے ...

مثنوی کی تنقید

 دیگر اصناف سخن کے مقابلے میں اردو مثنوی کی عمر خاصی طویل ہے مگر اس پر نظریاتی یا اصولی تنقید بہت کم ہوئی ہے ۔ اس پر تنقیدی نظر اس وقت سے پڑنے لگی تھی جب یہ اپنے عروج کی بلندیوں کو چھونے کے بعد مائل بہ انحطاط یا رویہ زوال تھی۔ اس وقت تنقید کے دو نظر ہے تھے۔ ایک نظریاتی دوسرا اصولی، ایک مثنویوں کے ظاہر اور باطنی حسن کا شیدائی تھا اور اس کے عیوب سے نظریں چراتا تھا ۔ دوسرا ان عیوب کی نشاندہی کر کے خوش ہوتا تھا پہلے نظریہ شبلی کا تھا جو قدیم قدروں کے پرستار تھے۔ دوسرا حالی کا تھا جو قدیم شاعری کی فرسودگی کے مخالف یا ناقہ تھے۔ حالی اصولی تنقید کے موجد ہیں " مقدمہ شعر و شاعری میں جہاں انہوں نے غزل مرثیہ، قصیدہ وغیرہ کے پرکھنے کے لیئے اصول بنائے ہیں وہاں مثنوی کے لئے چند اصول متعین کئے ہیں ۔ حالی کے  بعد شبلی نے شعر العجم، جلد چہارم میں مثنوی دی پر تنقیدی نظر ڈالی ۔ ان ناقدین کے  بعد  طویل عرصہ تک مثنوی پر قلم اٹھانے والوں نے ان اصولوں کی پیروی کی شعر الہند میں مولانا عبد السلام ندوی نے حالی اور شبلی کے اصولوں کو سامنے رکھ کر اظہار خیال کیا مولوی جلال الدین نے شبلی کے بنائے...

مرزا دبیر کی حالات زندگی

 مرزا سلامت علی نام اور دبیر تخلص ، مرزا غلام حسین کے بیٹے تھے۔ 1803 میں دلی میں پیداہوئے لیکن دلی کے نامساعد حالات کی وجہ  سے دہلی سے لکھنو اپنے والد کے ساتھ چلے آئے۔ والد نے تحصیل علم کا معقول انتظام کیا۔ عربی و فارسی زبان پرمکمل دسترس حاصل کی۔ علوم مروجہ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ مزاج میں شاعری سے قربت تھی۔ بارہ سال کی عمرمیں اشعار موزوں کرنے شروع کر دیے۔ والد نے اس وقت کے مقبول و معروف استاد میر ضمیر سے شاگردی کی گزارش کی اور دبیر کی صلاحیتوں کو پرکھنے کے بعد میر ضمیر نے حامی بھر لی۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق مرزادبیر نے شروع میں غزلیں موزوں کیں اور تین دیوان مرتب کر لیے لیکن جب ایک رقاصہ کو اپنے ہنر کے لیے استعمال کرتے دیکھا تو آپ نے غزل گوئی سے تو بہ کر لی اور اپنے دیوانین کو نذرآتش کر دیا۔ ( ڈاکٹر یا سر عباس، مرزاد دبیر کی فارسی شاعری ، نقد تفہیم ہیں- 8) مرزا دبیر کے ہوش سنبھالنے کے دور میں لکھنو میں غزل کا عام رواج تھا۔ کچھ ہی شعرا تھے جو مرثیہنگاری کی طرف مائل تھے ۔ ان میں خود دبیر کے استاد میر ضمیر اور میرانیس کے والد میر خلیق سر فہرست تھے۔ مرزاد بیر نے اس دور کی رو...

میر انیس کے مرثیوں میں منظر نگاری

نامعلوم: انیس نے زندگی کے ہر پہلو کو سمجھا، ان کا کلام انسان کے رنج و مسرت، کش مکش و اضطراب، جوش و ولوله غم و غصه عشق و محبت ، وفاداری و جاں نثاری ، بے بسی و مظلومی ، ہجر و وصال کی ایسی کیفیتوں کا آئینہ دار ہے جو کسی ایک شاعر کے کلام میں مشکل سے نظر آتی ہیں ۔ انیس کے کلام سے ہم ایک منظر کا انتخاب کرلیں یا کسی ایک کردار کا، دونوں صورتوں میں ہمیں انسانی نفسیات کے مدو جزر نظر آئیں گے۔ یہ انیس کی قادر الکلامی کی  ضمانت نہیں بلکہ ان کی گہری وجدانی آگہی کے بھی آئینہ دار ہیں۔ اس بیان کی وضاحت کے لیے انیس کے مرثیے فرزند پیمبر کا مد ینے سے سفر ہے " کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مرثیہ جیسا کہ خود مصرعہ سے ظاہر ہے، مدینہ سے امام حسین کے سفر کی تیاری ہورہی ہے۔ کنبے کے بیشتر افراد ان کے ہمراہ عازم سفر ہیں۔ عزیزوں میں صرف ایک بیٹی فاطمہ صغریٰ کو گھر میں چھوڑ کر جارہے ہیں جو بیمار ہیں۔ موسم گرمی کا ہے اور سفر ریگستان کا گھر میں محلے اور خاندان کی خواتین رخصت کرنے آئی ہیں۔ ان کے تاثرات دیکھیے : گرمی کے یہ دن اور پیاروں کا سفر آہ  ان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ رستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی ...

میر انیس کے مرثیوں میں جذبات نگاری

 جذبات کی مختلف اقسام پر وہی شاعر وفنکار قادر ہو سکتا ہے جس نے نفسیاتی گرہوں کو کھول لیا ہو۔ یوں تو سب ہی کے لیے نفسیات کا مسئلہ پیچیدہ اور دشوار گزار ہے لیکن بچوں کی نفسیات سے واقفیت سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ میر انیس نے ایسے مرقعے بھی مہارت اور فنکاری سے پیش کیے ہیں۔ ایک مریثے میں وہ حضرت امام حسن اور امام حسین کی کم سنی کا واقعہ رقم کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول کا ئنات مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔ دونوں نواسے کھیلتے ہوئے نانا جان کی خدمت میں آتے ہیں۔ رسول اکرم فرط محبت سے  امام حسن کے بوسے لیتے ہیں۔ امام حسین کی نفسیات ملاحظہ فرمائیے: شبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لب پر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سبب نانا کے منہ کے پاس یہ لائے تھے منہ کو جب جھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرب بھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھے غیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے نانا نے لبوں کا بوسہ نہیں لیا تو امام حسین رنجیدہ ہو گئے۔ خفگی کے جذبات امڈ پڑے اور عجیب کیفیت طاری ہوگئی اٹھے حسین زانوے نانا نے سے خشمگیں  غصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیں رخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیں پوچھا...

میر انیس کے مرثیوں میں کردار نگاری

 انیس کی مرثیہ نگاری پیکر تراشی، منظر نگاری، اثر آفرینی ، نفسیاتی آگہی ، جذبات نگاری اور زبان و بیان کے بر موقع اور برمحل استعمال کی وجہ سے اپنا جواب نہیں رکھتی۔ لفظوں کا انتخاب ، فضا بندی، واقعہ کی فن کارانہ تصویر کشی اور محاکاتی بصیرت کے ساتھ جذبے، عقیدے اور ذہنی وابستگی نے اسے اثر آفرینی اور فن کارانہ انفرادیت عطا کی ہے۔ کردار نگاری انیس نے اپنے مرثیوں میں کردار نگاری کے بہترین مرقع پیش کیے ہیں۔ ان میں ہر عمر اور ہر صنف کے کردار اپنی تمام خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ موجود ہیں۔ عمر رسیدہ اشخاص اپنے تجربے کی روشنی میں نوجوان نسل کو بلند کرداری کی تعلیم دیتے اور نصیحت کرتے ہیں۔ نوجوان تیزی اور سرکشی کے باوجود اپنی طبیعت پر قابور رکھتے ہیں ۔ ضبط نفس کی بہترین مثال ، نہر فرات کے کنارے سے خیموں کے ہٹا لینے کی روایت کے بیان میں نظر آتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تمام ساتھیوں نے حضرت امام حسین کے فرمان کا احترام کیا اور جیسے دوسری طرف ایستادہ کر لیے۔ حضرت عباس کی جذباتی کیفیت اور اطاعت شعاری کا بیان میر انیس نے اس طرح کیا ہے۔ آقا نے دی جو اپنے سر پاک کی قسم بس تھر تھرا کے رہ گیا وہ صاحب کرم...

امتحان کی کہانی از رابعہ شیخ

                              یہ اس زمانے کی بات ہے جب امتحان، امتحان گاہ میں جا کر دیئے جاتے تھے ۔ امتحان کی تاریخیں جیسے ہی عام ہوت ایک الگ سماں ہو جاتا۔ ماحول پر ایک الگ ہی سنجید گی طاری ہو جایا کرتی۔ کبھی نہ پڑھنے والے طلبا بھی فکرمند ہو جایا کرتے اور پڑھائی کرنے والے طلباء تو کتا بیں چھوڑ اہی نہ کر تے تھے۔ کچھ طلبا ایسے بھی ہوتے جنہیں پڑھنا ایک دن پہلے ہی ہوتا لیکن فکر روز اول سے ہی ہوتی اور جو بے فکرا دکھائی دیتا اس پر سب کا ایمان ہوتا تھا کہ اس نے یا تو پڑھائی کر لی ہے یا پھر چھٹیوں کی نقل مکانی کرے گا۔      اور اس درجہ بندی میں ہمارا شمار ان میں ہوتا جو فکر اسی دن سے کرتے لیکن انہیں پڑھنا ایک دن پہلے ہی ہوتا ہے پرچہ چاہے جتنے مشکل مضمون کا ہو۔ ہماری پڑھائی کا طریقہ یہ ہوتا کہ جیسے ہی تاریخوں کا اعلان ہوتا ہم سارے مضامین کا نصاب اپنے سامنے پھیلا لیا کرتے۔ پھر جس مضمون کی جس اکائی کا مواد پڑھنے کے لیے نہ ہوتا اس کی فراہمی کا انتظام ایک سے دو دن میں کر لیا کرتے۔ جب سارا انتظام ہو جا تا تو پھر ...