اشاعتیں

ستمبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حلقہ ارباب ذوق کا آغاز و ارتقا

 حلقہ ارباب ذوق کا قیام اپریل 1939 کوعمل میں آیا۔ پہلے اس کا نام " ب زم داستان گو یاں "تھا جو بعد میں حلقہ ارباب ذوق ہو گیا۔ اس کے دائرے میں بتدریج وسعت ہوتی گئی۔ اس کے بانی ارکان شیر احمد اختر تابش صدیقی اور نصیر احمد وغیرہ تھے۔ پھر میراجی ممتاز مفتی مختار صدیقی اور دیگر ادیب اس سے وابستہ ہوئے ۔ میرا جی اور ن۔ م۔ راشد ا سے واضح ادبی رجحان دے کر اس کے روح رواں بن گئے ۔ ان کے علاوہ حلقے سے وابستہ دیگر شعرا وادبا میں ہیں راج رہبر، کنھیا لال کپور ،پرکاش پنڈت ، بیگمیل سکینه محمود، عبادت بریلوی وغیرہ شامل ہیں ۔ رفتہ رفتہ حلقے کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ شمالی ہند کے کئی علاقوں میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں۔ ابتداء میں حلقے کے اجلاس مختلف لوگوں کے مکانوں اور دفتروں میں منعقد ہوتے رہے لیکن 1944 ء میں یہ طے کیا گیا کہ حلقے کے جلسوں کا انعقاد وائی ایم سی ۔ اے میں ہوا کرے گا۔ حلقے کے رجحان کو آگے بڑھانے میں میرا جی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ 1941ء میں بہترین نظموں کا انتخاب کر کے انہیں شائع کیا۔ اس انتخاب کی نظمیں صرف حلقے کے شعرا تک محدود نہیں ہیں بلکہ بہت سارے ترقی پسند شعرا کی ن...

حلقہ ارباب ذوق کیا ہے

یہ ایک پیچیدہ سوال ہے کہ حلقہ ارباب ذوق کیا ہے؟ اول تو یہ کہ حلقہ ارباب ذوق تحریک ہے یا رجحان؟ اور دوم یہ کہ تحریک اور رجحان سے کیا مراد ہے؟ آئیے پہلے تحریک اور رجحان کے معنی و مفاہیم کو مجھ لیں ۔ تحریک کے لغوی معنی کسی بات کو شروع کرنے کے ہیں۔ اصطلاحاً کسی مقصد کے حصول کے لیے جب افراد کا گروہ کوشش کرتا ہے تو اسے تحریک کہتے ہیں۔ اس طرح رجحان کے لغوی معنی میلان توجہ کے ہیں مگر اصطلاحا " غیر شعوری  رویہ " کے ہیں۔ رجحان منصوبہ بند طریقے سے کسی مقصد کی حصول یابی کے لیے نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کا با قاعدہ آغاز بھی نہیں ہوتا لیکن رجحان میں لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اس سے وابستہ فرد نہیں بلکہ افراد کا گروہ ہوتا ہے مذکورہ بالا تعریف کی روشنی میں غور کریں تو حلقہ ارباب ذوق ابتدا میں رجحان اور بعد میں تحریک کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس حلقے کی ابتدا میں کوئی واضح نظر یہ نہیں تھا لیکن بعد میں حلقے کا باقاعدہ قیام بھی عمل میں آیا، شاعر وادیب بھی وابستہ ہوئے اور نظریے کی وضاحت بھی ہوئی جس کی پیروی نظم ونٹر اور تنقید سب ہی میں کی گئی۔ حلقہ ارباب ذوق ک...

سر سید کی ادبی خدمات

 سرسید بے انتہا مصروف انسان تھے پھر بھی انھوں نے تصنیف و تالیف کے لیے وقت نکالا ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تصنیف و تالیف میں جیسا میرا جی لگتا ہے ویسا کسی اور کام میں نہیں لگتا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سیاسی ، سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتے ہوئے لکھنے پڑھنے کے مشغلہ کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ایک بڑی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ سرسید کے تمام کاموں سے کچھ نہ کچھ اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اردو زبان و ادب کی جو خدمات انھوں نے انجام دیں ان کا اعتراف دوست دشمن سبھی کرتے ہیں۔ سرسید نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ وفات کے نو دن پہلے تک چلتا رہا آخری مضمون انھوں نے تہذیب الاخلاق میں اردو کی حمایت میں لکھا تھا جب کہ آغاز اپنے بڑے بھائی کے اخبار سید الاخبار سے کیا۔ ان کی پہلی کتاب "رسالہ جلاء القلوب بذکر محبوب “ کو مرتب کیا۔ دہلی کی عمارتوں کا تفصیلی جائزہ آثار اصنادید میں لیا ہے۔ انقلاب 1857ء کے تعلق سے تاریخ سرکشی بجنور اور اسباب بغاوت ہند تحریر کی ۔ مذہب پر کئی کتابیں لکھیں "تفسیر قرآن تفسیر انجیل ( تبیمئن الکلام ) ، خطبات القلوب بذکر محبوب ہے۔ انھوں نے تقریبا ہر موضوع پر...

سر سید کی سماجی خدمات

یکم اپریل 1869ء کو سرسید انگلینڈ روانہ ہوئے گرچہ اس سے پہلے اپنی تصنیفات اور سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں لکھے گئے اخلاقی اور معاشرتی مضامین کے ذریعہ انھوں نے اصلاح کا کام شروع کر دیا تھا۔ مگر جب 1870ء میں انگلینڈ سے واپس ہوئے تو ان کے ذہن میں سماجی اصلاح اور تعلیمی تصور کا ایک واضح خاکہ موجود تھا۔ انھوں نے محمدن اینگلو اورنٹیل کالج علی گڑھ قائم کر کے تعلیمی مشن کو عملی جامہ پہنایا بلکہ تہذیب الاخلاق پرچہ جاری کر کے سماجی اصلاحات کا کام انجام دیا۔ تہذیب الاخلاق جسے "محمڈن سوشل فارمز" بھی کہتے تھے ، کا مقصد یہ تھا کہ قوم میں جدید زندگی کے مسائل کو سمجھے کی صلاحیت بیدار ہو جائے نیز ان تمام خرابیوں کو دور کیا جائے جو سماج کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ سرسید نے تہذیب الاخلاق کی ایک اشاعت میں سماجی اصلاح سے متعلق 29 نکات پر مشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا جن میں چند نکات درج ذیل ہیں :۔  👈 سب سے پہلے آزادی رائے کو سرسید ضروری سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انسان کو آزادانہ رائے دینے کا حق ہو تو دنیا کی آدھی برائیاں ختم ہو جائیں گی۔  👈 دین اور دنیا کی تفریق کو وہ غیر ضروری...

سر سید کی تعلیمی خدمات

 سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستانی مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنا ہے۔ وہ قوم کے سارے امراض کا علاج مغربی تعلیم میں تلاش کرتے ہیں ۔ 1857ء کے بعد ملک کے حالات تیزی سے بدل گئے ۔ انداز فکر ، رہن سہن تعلیمی نظام اور نصاب کے علاوہ ہر چیز پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ اب اگر ملازمتوں کو حاصل کرنا ہے ، سماج میں بہتر زندگی گزارنا ہے، حکومت میں اپنی رسائی حاصل کرنا ہے ، تجارت ، صنعت و حرفت کے شعبوں میں ترقی کرنا ہے تو جدید تعلیم سے منہ موڑ نہیں سکتے۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ صدیوں تک حکومت ان کے پاس تھی ان کے علوم اور زبان کو دیگر اقوام سیکھ اور پڑھ رہے تھے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ اپنی زبان اور علوم کو ترک کر کے دوسرے علوم اور زبان کو سیکھنا پڑ رہا تھا۔ اس کے لیے اتنی جلدی سے یہ آمادہ نہیں تھے۔ سرسید نے وقت کے تقاضہ کو سمجھا اور لاکھ مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن میں لگے رہے۔ اب مسلمانوں کو بھی جدید علوم پڑھنے پڑیں گے ۔ ابتدا میں سرسید ہندو اور مسلمانوں کی تعلیم کے لیے یکساں کوشش کرتے رہے مگر راجہ رام موہن رائے نے بہت پہلے ہی ہندوؤں میں بیداری پیدا کر دی تھی اور ان ک...

اردو انشائیہ اور اردو کے اہم انشائیہ نگار پر مشقی سوالات حصہ دوم

  Loading…

ہندوستان کے قدیم باشندے

ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے جس میں کہیں اونچے پہاڑ گہری ندیاں زرخیز زمین لہلہاتے کھیت برف سے ڈھکی چٹانیں خوبصورت وادیاں خوشنما اور خوشبو سے مہکتے باغات، خوبصورت مناظر کہیں گھنے جنگل ہیں اور کہیں ریگستان کہیں زمین سونا اگلتی ہے اور کہیں دیگر معدنیات نکلتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں میں ہے۔ اس کی تاریخ گذشتہ پانچ ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں صوفیا سادھو سنت بھی آتے رہے ہیں۔ یہاں کی تہذیب مشتر کہ تہذیب ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگ مختلف زبانیں بولنے والے مختلف رسوم و رواج غرض اس کی رنگا رنگی ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند ہے۔ یہاں وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کا حسن ملتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لوگ یہاں بستے ہیں اور باہر سے آتے رہے ہیں۔ ذیل میں ہندوستان کے چند قدیم باشندوں کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔ (1) نگریٹو(Negretos) یہ آفریقہ کے کچھ قبائل تھے جو ترک وطن کر کے زرخیر زمینوں کی تلاش میں ہندوستان آئے تھے۔ م ان آفریقی قبائل کے کچھ نشانات جزائر انڈمان میں پائے جاتے ہیں ۔ (2) پروٹو آسٹر لوائیڈ (Proto-Australoid): یہ فلسطین سے آئے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے علاوہ سیلون ، برما، م...

اردو انشائیہ اور اردو کے اہم انشائیہ پر مشقی سوالات نگار حصہ اول

  Loading…

تحریک کے معنی ، ترقی پسند تحریک کیا ہے

 تحریک عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی کسی بات کو شروع کرنے کے ہیں۔ اصطلاحاً کسی مقصد کے حصول کے لیے جب افراد کا گروہ کوشش کرتا ہے تو اسے تحریک کہتے ہیں، خواہ اسے کسی بھی حد تک کامیابی حاصل ہو۔ ترقی پسند تحریک بھی ظاہر ہے کہ ایک تحریک ہے اور اس تحریک کے مخصوص مقاصد میں غریبوں کو ان کا حق دلانا عدم مساوات کے خلاف آواز بلند کرنا انسان دوستی اور آزادی ہند کی کوشش شامل تھی ۔ گویا ادب کو گل و بلبل اور کنگھی چوٹی سے بالا تر کر کے اسے مقصدیت سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ترقی پسند تحریک کی نیولندن میں رکھی گئی ۔ 1930ء میں لندن میں چند ہندوستانی طالب علموں نے اپنے ملک کے سیاسی و سماجی حالات کے تناظر میں انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا اور انفرادی طور پر اس کی جستجو کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر تمام زبانوں کے تخلیق کاروں کو ہمراہ لے کر ہندوستانیوں کو پستی نمای مظلومی اور استحصال سے آزاد کرانے کا عزم کیا۔ اس تحریک سے متعلق اور اس کے نظریوں سے اتفاق رکھنے والے ادیبوں نے اپنی اپنی زبان کے ادب میں ترقی پسند خیالات کی تبلیغ تشہیر کی اور اس طرح اس تحریک نے پورے ہندوستان میں اور ہندوستان کی بیشتر زبانوں...

ترقی پسند تحریک کا آغاز و ارتقا

ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل 1936ء کی اس کا نفرنس سے ہوتا ہے جس کی صدارت پریم چند نے کی تھی۔ پریم چند نے اپنے صدارتی خطبے میں ادب کی غرض وغایت بیان کی ادبیوں کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور اس جلسے کو ادب کی تاریخ میں ایک یادگار واقعہ قرار دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے کہا کہ : ہم اپنے آپ کو ہندوستانی تہذیب کی بہترین روایات کا وارث سمجھتے ہیں اور ان روایات کو اپناتے ہوئے ہم اپنے ملک میں ہر طرح کی رجعت پسندی کے خلاف جدو جہد کریں گے اور ہر ایسے جذبے کی ترجمانی کریں گے جو ہمارے وطن کو ایک نئی اور بہترین زندگی کی راہ دکھائے ۔ انہوں نے ادیبوں اور فنکاروں کے لیے حسن و جمال کی بدلتی ہوئی معنویت بدلتے ہوئے حالات اور عصری حیثیت کے تناظر میں ادب کی تعریف بھی پیش کی ہے۔ اس کا نفرنس میں شرکت کرنے والوں میں پریم چند کے علاوہ چودھری محمد علی ردولوی سید سجاد ظہیر احمد علی، فراق گورکھپوری ، محمود الظفر ، حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی ساغر نظامی اور بنگال مہاراشٹر گجرات اور مدراس وغیرہ کے نمائندے شامل تھے۔ اس کا نفرنس میں سجاد ظہیر انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری منتخب کیے گئے۔ لکھنو کانفرن...

ادب اور اخلاق کا رشتہ

  ادب اور اخلاق کا رشت ہ اخلاق کا تعلق فلسفہ، سماج اور اب تینوں سے ہے۔ادب بھی ان تینوں  سے متعلق ہے لیکن اس کا تعلق فلسفہ اور سماج ہے۔ زیادہ ہے کیونکہ فلسفہ اورسماجیات بنیادی طور پر دنیاوی زندگی و انسان کے لیے کیسے بہتر سے بہتر بنایا جائے اس پر بحث کرتے ہیں۔ اگر چہ مذہب اس کے متضاد تو نہیں ہے لیکن مذاہب کے لحاظ سے دنیاوی زندگی انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے مکمل حیات نہیں ۔ مذہب کے لیے انسان کا خدا سے رشتہ قائم کرنا اور دنیاوی زندگی کے بعد آخرت کو سنوارنا بھی بہت اہم ہے۔ بلکہ مذہب میں کئی بار دنیادی زندگی کو محض واہمہ یا امتحان قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اس زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اصل زندگی تو آخرت کی ہے جو اس امر پر بنی ہوگی کہ آپ نے اس زندگی کو کیسے گزار رہے  ہے، لیکن مذہب بھی فلسفہ اور سماج کی طرح اس زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اخلاقیات فلسفہ میں ایک اہم شاخ ہے جس میں انسانی اخلاقیات سے متعلق افکار و نظریات پر بحث ملتی ہے۔ لیکن سماج اصول و ضوابط بھی بناتا ہے اور اس کا اطلاق بھی کرتا ہے۔ فلسفہ، مذہب اور سماجیات کی طرح ادب کا بھی ایک مقصد انسانی زندگی کو بہ...

ادب اور سماج کا رشتہ

 ا دب اور سماج کا رشتہ:- ادب اور سماج کا رشتہ بہت قدیم ہے۔ جب انسان جنگوں اور غاروں میں رہا کرتا تھا اور اس کے پاس زبان نہیں تھی اس وقت بھی اس کے ذہن میں شعری وادبی خیالات یقینا آتے ہوں گے کیونکہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار انسان کی بنیادی جبلت ہے اور اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے۔ اس لیے اس وقت جب انسان فطرت کے بہت قریب تھا اور فطرت میں انسان کو متاثر کرنے کی لامحدود صلاحیت ہے، اس وقت انسان کے ذہن میں شعری و ادبی خیالات و تجربات ضرور آتے ہوں گے۔ لیکن ادب کے لیے زبان ضروری ہے ۔ ادب لفظ و معنی کے ملنے سے ہی وجود میں آتا ہے۔ اس لیے ادب کا آغاز زبان کے بننے کے بعد ہی ہوا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں ادب کی ابتدا شاعری ہی سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاعری بحرو وزن کی وجہ سے آسانی سے یاد ہو جاتی ہے لیکن نثر  یاد کرنا نہایت مشکل ہے۔ اس لیے شاعری کا آغاز اس وقت ہو گیا تھا جب زبان محض بولنے تک محدود تھی ، تحریری زبان کی ایجاد بعد میں عمل میں آئی۔ آہستہ آہستہ زبان اور سماج دونوں ترقی کی منزلیں طے کرتے رہے، زبان کو تحریری شکل حاصل ہوئی اور سماج بھی زیادہ من...

حضرت میرا جی شمس العشاق کی حیات اور ادبی خدمات

حضرت میراں جی شمس العشاق      کا نام امیر الدین عرفیت میراجی اور لقب شمس العشاق ہے۔ آپ کے والد کا نام حاجی شریف دوام الدین تھا۔ میراں بھی مکہ شریف میں پیدا ہوئے بائیس سال کی عمر میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ گئے اور وہاں بارہ سال تین ماہ اور پانی روز قیام کیا۔ پھر ہندوستان آئے اور دکن کا رخ کیا۔ حضرت شاہ کمال الدین بیابانی کے دست پر بیعت کی اور منازل سلوک طے کرنے کے بعد آپ  کو حضرت شاہ کمال الدین بیابانی نے آپ کو خلافت سے سرفراز کیا۔ دو واسطوں سے آپ کا سلسلۂ خلافت حضرت گیسو دراز سے ملتا ہے۔ اپنے پیرو مرشد کے حکم سے بھنگار ( احمد نگر ) جا کر شادی کی ۔ آپ کے فرزند برہان الدین جانم اور پوتے امین الدین علی اعلیٰ تھے۔ میراں جی شمس العشاق اپنے پیر و مرشد کے کہنے کے مطابق بیجاپور چلے گئے اور تاحیات مخلوق خدا کو اپنے علم وفضل سے بہرہ ور کرتے رہے۔ آپ کا مزار بیجاپوری میں ہے۔ میراں جی ولی کامل اور روشن ضمیر بزرگ تھے۔ آپ نے ساری زندگی عبادت ریاضت رشد و ہدایت درس و تدریس میں گزار دی ۔ آپ عالم با عمل اور صوفی باصفا تھے۔ باعمل میراں جی شمس العشاق سے کسی اردو نثری رسالے کا انتساب ...

میرا جی خدا نما کی حیات اور ادبی خدمات

میرا جی خدا نما   1074 ھ    1004-  ھ  میرا جی خدا نما حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز کے سلسہ فیض کے شاعر وادیب ہیں۔ آپ سید تھے۔ اپنے کلام میں انہوں نے میراں اور سید میراں تخلص استعمال کیا ہے۔ آپ کے والد کا نام شاہ قاسم محمود تھا۔ حضرت میراں جی خدا نما نے اپنے آپ کو رشد و ہدایت کے لیے وقف کر دیا اور سلطان عبداللہ قطب شاہ کی سرکاری ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ چوں کہ آپ بندگان خدا کوحق پرستی اور معرفت خداوندی کا درس دیا کرتے اس لیے انھیں خدا نما کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ سلسلہ بندہ نواز کے مشائخین کی طرح میراں جی خدا نما بھی تصنیف و تالیف میں مشغول رہے اور اپنی نگارشات سے خلق اللہ کی دینی اور علمی خدمت انجام دی۔ انہوں نے کئی اردو رسالے اور نظمیں لکھیں۔ رسالہ وجود یہ (موضوع : تصوف کے مسائل ) ، شرح تمہیدات عین القضات اور شرح مرغوب القلوب اردو نثر میں ہیں۔ میراں جی خدا نما نے بشارت الانوار کے علاوہ دو مثنویاں اور غزلیں بھی کہی تھیں ۔ شرح تمہیدات عین القضات قاضی عین القضات ہمدانی کی تصنیف ہے۔ تصوف سے متعلق اس فارسی تصنیف کی شرح حضرت خواجہ بندہ نواز نے فارسی ہی ...

زبان کی تعریف

ماہر لسانیات ہنری سوئٹ کے بقول تکلم کے سبب جو آواز میں نکلتی ہیں اور جن سے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے وہی زبان ہے۔ پروفیسر گیان چند جین لکھتے ہیں زبان چند ایسی مخصوص آوازوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہے جو صوتی اعضاء کے عمل سے وجود میں آتے ہیں۔ ان آوازوں سے الفاظ بنتے ہیں۔ الفاظ جب مخصوص ترکیبوں میں آتے ہیں تو جملے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح آواز سے لے کر جملے تک ایک نظام ہوتا ہے ایک لفظ گلاب ہے۔ یہ پانچ آوازوں سے مل کر بنا ہے گ + اُ+ ل + ا+ ب ان پانچ آوازوں کی ایک خاص ترتیب سے ایک خاص معنی کے لیے لفظ تشکیل پایا ہے۔ ڈاکٹر اقتدار حسین خاں لکھتے ہیں کہ لسانیات کی رو سے زبان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے زبان ایک ایسے خود اختیاری اور روایتی صوتی علامتوں کے نظام کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے سماج میں اظہار خیال کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انھوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ زبان دراصل آوازوں یا اصوات کا مجموعہ اور ترتیب ہے۔ یہاں صوتی سے مراد آوازوں سے ہے جو انسان اپنے اعضائے تکلم سے پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر سید حمید الدین شرفی رقم طراز ہیں اصطلاح میں زبان سے مراد وہ مخصوص آواز میں ہیں جو انسان بالمقصد نکالتا ہے اور ...

خواجہ سید محمد حسینی بنده نواز گیسو دراز

خواجہ سید محمد حسینی بنده نواز گیسو دراز  825-720ھ یا 721ھ مطابق 1422ء -1321ء  بندہ نواز گیسودراز کی ولادت دہلی میں ہوئی ۔ آپ کا اسم گرامی سیدمحمد اور کنیت ابوالفتح تھی ۔ اور القاب صدرالدین اور صادق ۔ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی بارگاہ سے جو خواجہ بندہ نواز کے شیخ تھے۔ گیسودراز لقب عطا ہوا تھا۔ خواجہ بندہ نو از سادات حسینی سے تھے۔ ان کے جد اعلیٰ ابوالحسن جنیدی ہرات سے دہلی چلے آئے تھے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کے والد سید یوسف حسینی تھے جو شاہ را جو قتال کے نام سے مشہور تھے۔ جب آٹھویں صدی ہجری کے آغاز میں سلطان محد تعلق نے دیوگیری کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور اسے دولت آباد کے نام سے آباد کیا تو دہلی کے علماء عمائدین اور مشائخین کو بھی وہاں منتقل ہونے کا حکم دیا۔ شاہ راجو اسی جماعت کے ہمراہ 17 محرم 719 ھ کو دولت آباد تشریف لے گئے۔ اس وقت خواجہ بندہ نواز کی عمر چارسال تھی اور وہ اپنے والدین کے ساتھ دکن پہنچے تھے۔ دولت آباد کے قیام کے زمانے میں سیدمحمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز نے اپنے والد اور ان کی وفات کے بعد نانا سے تعلیم وتربیت حاصل کی تھی ۔ ابتدائی تعلیم خلد آباد میں ہ...

پھول بن پر مشقی سوالات

  Loading…

اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کی خدمات

  اردو زبان وادب کی تخلیق ونشو و نما صوفیائے کرام کی مرہون منت ہے۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں ان کی خدمات   مسلمہ ہیں۔ انھیں اپنی بات پہنچانا تھا۔ وہ ایسی زبان میں اپنی تعلیمات پیش کرنا چاہتے تھے جسے عوام سمجھ سکیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمات کو نظم ونٹر میں پیش کیا۔ صوفیائے کرام کے قریبی فقرے اردو کے نقوش اولین اور ابتدائی نمونے ہیں۔ یہ فقرے اردو زبان کے ارتقاء میں معاون ثابت ہوئے۔ صوفیائے کرام عوام سے ان کے اپنے روز مرہ میں گفتگو کرتے تھے۔ وہ مقامی بولیوں کو استعمال کرتے۔ ہندوستانی مقامی زبانوں اور بولیوں کو بادشاہوں کے دربار میں اتنی سر پرستی اور حوصلہ افزائی نہیں ملی جتنی بزرگوں کی خانقاہوں سے حاصل ہوئی ۔ امراء اور بادشاہوں کو عوام سے میل جول کی وہ ضرورت نہیں تھی جو ان بزرگوں کو تھی اور ادنی ترین سطح کے عوام سے سید ھے اور حقیقی رابطے کا ہی یہ ثمرہ تھا کہ زبان کا وہ عوامی کینڈا تیار ہو گیا جس پر آئندہ زمانے میں اردو زبان اور روزمرہ کی عمارت استوار ہوئی۔ صوفی شعرا کو سادہ اور عام فہم زبان میں اپنی بات عوام تک پیش کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ ان کی شاعری میں الفاظ کو ضرورت شع...

کتاب ہماری داستانیں پر مشقی سوالات

  Loading…

اردو ڈرامے کے اقسام

ڈرامے کو عموماً دو اقسام المیہ ( ٹریجڈی) اور طربیہ کامیڈی میں ہی تقسیم کیا جاتا تھا۔ پھر الم و طرب کی شمولیت سے بھی ڈرامے ترتیب دئیے جانے لگے  ۔ یہاں سب سے پہلے جنھیں "الم طربیہ کا نام دیا گیا۔ اس کے علاوہ میلوڈراما، فارس ، ڈریم اور اوپیرا بھی ڈرامے کی قسمیں ہیں ۔ سب سے اہم صنف المیہ ( ٹریجڈی ) پر بات کرتے ہیں۔ المیہ (ٹریجڈی) مغرب میں یں ٹریجڈی ڈرامے ڈراے کی  سب سے  اہم  قسم قرار  دی گئی ہے۔ یہ وہاں  اس قدر مقبول ہوئی ہوئی  کہ ڈرامے کا دوسرا نام نامی ہی ٹریجڈی پڑ پڑ گیا۔ اس کا اندازہ اے۔ ڈبلیور شیگل کے اس قول سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ " ٹریجڈی تخیل کی معراج ہے" ۔ چند جملوں میں ٹریجڈی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ اس کا پلاٹ غم واندوہ کے واقعات پر بنی ہوتا ہے اور اس میں باوقار واعلیٰ طبقے کے کردار شامل کیے جاتے ہیں جیسے بادشاہ، وزیر شہزادے اور اعلیٰ افسر وغیرہ لیکن ٹریجڈی اعلیٰ طبقے کے کرداروں کے علاوہ کچھ اور بھی مطالبہ کرتی ہے۔ ٹریجڈی میں ڈراما نگار غم واندوہ، ہمدردی و دہشت کا گہرا تاثر پیش کرتا ہے جس سے دردمندی اور رحم کے جذبات ابھرتے ہیں۔  دہش...

ڈرامے کی اجزائے ترکیبی

ارسطو کے متعین کردہ ڈرامے کے اجزائے ترکیبی چھ ہیں:  پلاٹ، کردار، مکالمہ، زبان ، موسیقی اور آرائش ۔  عشرت رحمانی نے انھیں نو بتایا ہے جو کسی غلط فہمی پر منحصر ہے۔ پلاٹ مختلف واقعات کو ایک فطری تسلسل، بامعنی ربط و آہنگ اور منطقی ہم آہنگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ اچھے پلاٹ میں واقعات کی ترتیب ایک خاص ڈھنگ سے ہوتی ہے۔ اس میں کوئی بھی واقعہ یوں ہی رونما نہیں ہوتا بلکہ ہر واقعہ اپنے پچھلے واقعے کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے، مزید یہ کہ واقعات ایک کے بعد ایک اس طرح آگے بڑھتے ہیں کہ ان میں منطقی ربط و تسلسل بھی ہوتا ہے اور دل چسپی میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ یعنی انھیں سے پلاٹ آگے بڑھتا ہے۔ پلاٹ میں تسلسل بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وقت کی محدودیت کی وجہ سے ڈرامے کا پلاٹ ایجاز و اختصار کا متقاضی ہوتا ہے۔ لہذا ڈرامے کے پلاٹ کی تشکیل اور تراش و خراش میں فنی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں واقعات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان میں مسلسل ارتقا ہو اور اختتام کو پہنچنے سے پہلے وہ نقطہ عروج کو پہنچ جائیں۔ عموماً پلاٹ دو طرح کے ہوتے ہیں ، اکہرے اور تہہ دار ۔ اکہرے پلاٹ سے مراد یہ ہے کہ ...

ڈرامے کی تعریف

ڈراما نہ محض مکالمے میں لکھی گئی تحریر ہے نہ صرف واقعات و کردار کا مجموعہ۔ اس کے اجزاء عناصر میں پلاٹ، کردار، مکالمہ اور زبان شامل ہے تو رنگ صوت ، آهنگ ، روشنی، سایہ اور سکوت بھی اس کے عناصر ہیں، چنانچہ اس کی دوٹوک تعریف ڈرامشکل ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کے مطابق لفظ ڈراما اس یونانی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں " کر کے دکھائی ہوئی چیز "۔ Encyclopaedia Britanica, Vol. 7, p. 576 Brown, lovor شلڈن چینی لکھتا ہے کہ ڈراما اس یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں۔ میں کرتا ہوں اور جس کا اطلاق "کی ہوئی چیز" پر ہوتاہے Chenyshaldon, The Theatre Tudor, edi. New York, 1947, p. 13 ارسطو نے بوطیقا میں ڈرامے کی کوئی حتمی تعریف پیش نہیں کی لیکن اس کی پیش کردہ توضیحات سے ڈرامے کی تعریف اس طرح مرتب کی گئی "ڈراما انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ ، موزونیت اور نغمے کے ذریعے کرداروں کو محو گفتگو اور مصروف عمل ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں یا ان سے بہتر یا بدتر انداز میں پیش کیا جائے ۔  (محمد اسلم قریشی، ڈرامے کا تاریخی و تنقیدی پس منظر مجلس ترقی ادب، ل...

منٹو کی افسانہ نگاری

افسانوی ادب کی دنیا میں سعادت حسن منٹو کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اردو کا یہ افسانہ نگار آج دنیا کے بیشتر افسانوی ادب میں متعارف ہو چکا ہے۔ ان کے افسانے ہندوستان کی مختلف علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کی زبانوں میں بھی ترجمے ہو چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے چند بڑے افسانہ نگاروں میں منٹو کا بھی شمار ہوتا ہے۔ کوئی بھی فن کار ، چاہے وہ کسی بھی میدان کا کیوں نہ ہو، تب تک بڑا نہیں بن سکتا ، جب تک وہ اپنے معاصرین سے الگ ہٹ کر کچھ نیا نہیں پیش کرتا ۔ منٹو بہت حساس ذہن کے مالک تھے اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے۔ منٹو نے جب افسانے کی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت پریم چند، کرشن چندر، را جندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی افسانے میں بہت کچھ کر چکے تھے اور اپنے اپنے میدان میں بہت اچھے اچھے افسانے پیش کر چکے تھے۔ اس لیے منٹو نے افسانہ نگاری کے میدان میں ایک الگ راہ نکالی۔ منٹونہ تو کسی تحریک سے وابستہ تھے اور نہ ہی وہ کسی رجحان کے تحت افسانے تخلیق کرتے تھے۔ منٹو اپنے موضوعات کے موجد خود ہی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اس میدان میں ان کا ثانی دوسرا کوئی نہیں ہے۔ منٹو نے اپنا پہلا افسانہ ...

سعادت حسن منٹو کی حالات زندگی

 سعادت حسن منٹو کا اصل نام سعادت حسن تھا۔ گھر میں انہیں لوگ نامی کہہ کر پکارتے تھے۔ جب اسکول میں ان کا داخلہ ہوا تو وہاں بھی بچے انہیں ان کے اصل نام سے نہیں بلکہ گھر یلو نام نامی کہہ کر ہی بلاتے تھے۔ منٹو کے آبا و اجداد کا تعلق کشمیر کے منٹوذات سے تھا۔ اس لیے وہ اپنے نام کے ساتھ منٹول گاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سعادت حسن ادب کی دنیا میں منٹو نام سے جانے جاتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں ہوئی۔ ان کے آبا و اجداد کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب آئے اور لاہور میں مقیم ہو گئے۔ ان کے والد کا نام غلام حسن تھا۔ منٹو کی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہوئی۔ انہوں نے ہائی اسکول کا امتحان تین بار فیل ہونے کے بعد چوتھی کوشش میں مسلم ہائی اسکول امرتسر سے 1931 ء میں تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد منٹو نے ایف اے میں داخلہ لیا لیکن پاس نہیں کر سکے۔ منٹو اپنے طالب علمی کے زمانے ہی میں ایم اے او کالج امرتسر کی میگزین ہلال کے مدیر مقرر ہوئے ۔ امرتسر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد منٹو نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے 1935 میں علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی میں داخلہ ...

افسانے کا فن

افسانه یا مختصر افسانے کو افسانوی ادب کی تمام اصناف میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اردو میں داستان اور ناول کے بعد اس صنف کا آغاز ہوا۔ یہ صنف چونکہ مغربی ادب خصوصاً انگریزی کے زیر اثر اردو میں شروع ہوئی اس لیے ابتدا میں اسے مختصر افسانہ کہا گیا کیوں کہ انگریزی میں اس کے لیے short story کی اصطلاح رائج تھی۔ بعد میں اسے صرف افسانہ کہا جانے لگا۔ صنعتی انقلاب اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی ذہن کو داستان کی مافوق الفطری فضا سے نکال کر حقیقی زندگی سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ اس عہد میں قصے کی ایک نئی صنف کا آغاز ہوا جسے ہم ناول کے نام سے جانتے ہیں۔ نئے دور کا انسان داستان کی تحیر ناک اور طلسماتی فضا سے محظوظ ہونے کی بجائے اپنے آس پاس کے ماحول اور معاشرے سے متعلق قصے سننے کا آرزومند تھا۔ اسی ضرورت کے تحت صنف ناول کی شروعات ہوئی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ناول میں ایک پورا عہد اور معاشرہ سانسں لیتا نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پرڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبتہ النصوح میں انیسویں صدی کے نصف آخر کی دلی کی تہذیب و معاشرت، رسم و رواج، اقدار و روایات، اچھائیاں اور برائیاں اور روزمرہ زندگی کی جھ...